حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 334
حقائق الفرقان ۳۳۴ سُورَةُ الْمَائِدَة ا الَّذِي مَرَّ عَلى قَرْيَةٌ (البقرہ : ۲۶۰) والا کون ہے۔ یہاں تک کہ بعض نے اسے ولی اللہ ۔ بعض نے نبی اور بعض نے کا فر بھی کہا ہے۔ ۴۔ موسی کے زمانہ میں جس بقرہ کے ذبح کا حکم ہوا تھا۔ وہ گائے تھی یا بیل ۔ یہ سوال تو بنی اسرائیل کو بھی نہ سوجھا ۔ ۵۔ اصحاب کہف کے کتے کی شکل اور رنگ کیا تھا۔ ۔ شداد کا باغ کیسا تھا ۔۷۔ براق کی شکل کیسی تھی؟ ایسی بیہودہ تحقیقوں میں پڑنے سے وقت ضائع ہوتا ہے اور منشاء الہی جو شریعت کے نزول سے تھا جاتا رہتا ہے ۔ اصل غرض قرآن کی تو تقوی اور اعمالِ صالحہ ۔ خشیت اللہ کا پیدا کرنا اور خودی خود پسندی اور خود رائی ۔ عجب ، بد نظری ، دنیا پرستی سے بچنا ہے ۔ ثُمَّ أَصْبَحُوا بِهَا كَفِرینَ ۔ پہلے بڑے جوش و جوش سے دعوئی اطاعت کیا جاتا ہے پھر اس کو نباہ نہیں سکتے۔ ایک دوست نے بہت زور سے اپنے افسر کے لئے دُعا کی جو اس کا مخالف تھا۔ الہام ہوا کہ نوکری نہ چھوڑ نا صبح کسی بات سے ناراض جو ہوئے ۔ جھٹ کہہ دیا۔ میرا استعفاء لے لو جو لے لیا گیا۔ تو بعد میں افسوس ہوا ۔ ہمارے ایک شاگرد تھا۔ اُس نے جب ابراہیم نے جب ابراہیم کی نسبت ہم سے سنا کہ خدا نے اسے فرما یا اسلم تو اس نے کہا کہ اسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ ۔ (البقرہ: ۱۳۲) تو وہ جھٹ بول اٹھا ۔ میں بھی آپ کا ایسا مطیع ہوں ۔ ہم نے آزمائش کے لئے یوں کیا کہ وہ گھر میں کھانا کھاتا تھا۔ کہہ دیا۔ اب تم طالب علموں کے ساتھ کھانا کھایا کرو۔ اس پر اسے ایسا صدمہ ہوا کہ وہ کہے مجھے واپس گھر بھیجواؤ۔ مجھے اپنی تذلیل منظور نہیں ۔ ضمیمه اخبار بد ر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۳ مورخه ۱۹ را گست ۱۹۰۹ ء صفحه ۹۱٬۹۰) ۱۰۴ - مَا جَعَلَ اللهُ مِنْ بَحِيرَةٍ وَلَا سَابِبَةٍ وَلَا وَصِيلَةٍ وَلَا حَامِ وَلَكِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَأَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ - ترجمہ ۔ اللہ نے نہیں ٹھہرایا بحیرہ نہ سائبہ اور نہ وصیلہ نہ حام لیکن کافر اللہ پر افتراہی کرتے ہیں جھوٹا اور وہ اکثر بے عقل ہی ہیں۔ تفسیر - بحيرة - جس اونٹنی سے بارہ بچیاں پیدا ہو جاویں۔ا۔ ۔ اسے آزاد کر دیتے۔ نہ دودھ لیتے ۔ نہ لے جیسا اس کا حال جو گزرا ایک بستی کی طرف سے میں تو رب العالمین کا فرمانبردار ہو چکا۔