حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 332 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 332

حقائق الفرقان ۳۳۲ سُورَةُ الْمَائِدَة والا بنا دیا ہے دنیا کی ہزاروں سلطنتیں پلٹ جاویں دنیا الٹ پلٹ ہو جاوے اور یہ سب کچھ ممکنات میں سے ہے پر ایسے جنگل و بیابان میں ایک کوٹھہ ہے اور اس کے لئے دعوی کیا جاتا ہے اور دنیا میں شور مچادینا کہ اس کو مٹا کر تو دکھلاؤ ۔ پھر اس کو کوئی مٹا نہ سکے گا پھر یہ بات کیسی پوری ہوئی یہ اس لئے کہ تمہیں پتا لگ جاوے کہ کوئی خدا کی ذات ہے اور وہ زمین و آسمان کی باتیں جانتا ہے اور یہ کہ وہ ہر ایک بات کا جاننے والا ہے اور وہ قادر ہے۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۵ء صفحه ۱۰) - - ۹۹ - اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ وَ أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ترجمہ ۔ اور جان رکھو کہ اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے اور یہ کہ اللہ بڑا ڈھانپنے والا سچی محنت کا بدلہ دینے والا ہے۔ تفسیر انَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ وَ أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ رَّحِيمُ ۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک واقعہ صحیح واقعہ سناتا ہوں۔ یہاں ایک شخص آیا۔ کشمیر میں ملازم تھا۔ حضرت صاحب سے بیعت کی ۔ بیعت کر کے کہنے لگا ۔ جواب میں گناہ کروں تو خدا کی جو مرضی ہے سزادے لے۔ وہ تو یہ کہہ کے چلا گیا۔ مگر میرا دل کانپ اُٹھا۔ آخر ایک معمولی حیلہ سے اس کے پاس تین ہزار جمع ہو گیا۔ پھر ایک شخص کی گواہی دیتے ہوئے کہنے لگا کہ یہ رشوت لیتا ہے۔ میں خود اپنی معرفت اس کو دلاتا رہا ہوں۔ جس پر ایک مقدمہ قائم ہو گیا۔ یہاں اس ۔ انے بڑے عجز والحاح سے دعا کے لئے لکھا ۔ حضرت صاحب نے فرمایا دعا کے لئے دل توجہ نہیں کرتا۔ ابتلاء معلوم ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ تین ہزار بھی مقدمہ ہی میں خرچ ہو گیا اور اخیر قید کا حکم ہوا ۔ اس وقت کہنے لگا۔ معلوم ہوتا ہے خدا ہی کوئی نہیں ۔ نہ کوئی دعا ہے نہ فقیر ۔ نماز بھی چھوڑ دی دہر یہ ہو گیا۔ اس وقت اسے رات کو خواب آیا کہ تو تو کہتا تھا کہ اب کوئی گناہ کروں تو خدا جو چاہے سزا دے لے۔ مگر اب ایک معمولی سزا ہی سے خدا ہی سے منکر ہو بیٹھا۔ اس وقت وہ اٹھا اور بہت استغفار کی کلمہ شہادت پڑھا، نماز پڑھی اور اللہ کی طرف متوجہ ہوا۔ کسی نے اسے مشورہ دیا کہ نظر ثانی کراؤ۔ کہنے لگا نہیں ۔ اب تو خدا پر چھوڑ دیا ہے۔ اس کے رشتہ دار نے نظر ثانی کرائی۔ مدعی اتنے میں مر گیا۔ عدالت نے فیصلہ دیا۔ چند امور تنقیح طلب باقی ہیں۔ مدعی مر چکا ہے اس لئے اسے رہا کر دیا جائے۔