حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 323
حقائق الفرقان ۳۲۳ سُورَةُ الْمَائِدَة لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَ الَّذِينَ اشْرَكُوا وَ لَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُمْ مَوَدَّةً لِلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصْرُى ذلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِيْسِينَ وَرُهْبَا نَّا وَ أَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ - ترجمہ ۔ البتہ تو ضرور ضرور پائے گا لوگوں میں سے سخت عداوت والا مومنوں کا یہود کو اور مشرکوں کو اور البتہ البتہ تو بہت قریب پائے گا دوستی میں مومنوں کے ان لوگوں کو جو کہتے ہیں ہم نصاری ( معین حق ) ہیں۔ یہ اس وجہ سے کہ ان کے بعض عاقل ذی علم اور گوشہ نشین بے آزار ہیں اور یہ سبب بھی ہے کہ وہ اپنے کو بڑا اور دوسرے کو حقیر نہیں سمجھتے ۔ تفسیر - أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً - یہود نے کبھی کسی سچے مسلمان کو پناہ نہیں دی ۔ وَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا ۔ مشرک کبھی مومن کا خیر خواہ نہیں ہوتا۔ آریہ کا بھی یہی حال نظر آتا ہے حضرت صاحب ایک مقدمہ کی مشکلات میں ۲ سال رہے۔ حالانکہ وہ ایسا مقدمہ تھا کہ چند منٹوں میں عیسائی حاکم نے اس کا فیصلہ کر دیا۔ أَقْرَبَهُمْ مَوَدَّةً - رسول کریم صلی اللہ علیہ و آ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ بھی ہجرت کر کے گئے تو ایک عیسائی سلطنت نے پناہ دی اور نیک سلوک کیا۔ قسيسين - س دراصل ص ہی ہے۔ یعنی وہ لوگ جو بزرگوں کے قصے کہانیاں بیان کرتے رہتے ہیں۔ اور ان کے اثر سے بعض نیک صفات باقی رہتی ہیں ۔ رُهْبَانًا ۔ تارک الدنیا ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۲ مورخه ۱۲ را گست ۱۹۰۹ ء صفحه (۸۸) ۸۴، ۸۶،۸۵ - وَ إِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشهدِينَ - وَ مَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللهِ وَ مَا جَاءَنَا مِنَ الْحَقِّ وَ تَطْمَعُ أَنْ يدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّلِحِينَ - فَأَثَابَهُمُ اللَّهُ بِمَا قَالُوا جَنَّتِ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهُرُ خُلِدِينَ فِيهَا وَ ذَلِكَ جَزَاءُ الْمُحْسِنِينَ۔ ترجمہ ۔ اور جب سنتے ہیں اس کلام کو جو اترا رسول پر تو ان کی آنکھوں کو دیکھتا ہے بھری آتی ہیں