حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 317
حقائق الفرقان ۳۱۷ سُورَةُ الْمَائِدَة نہیں کرتا۔ وہ تھکتا اور ماندہ نہیں ہوتا۔ اُس کا قدم آگے ہی آگے پڑتا ہے اور اس مضمون کے پہنچانے میں کوئی سستی نہیں کرتا۔ کوئی ذکر ہو۔ اندر ہو باہر ہو۔آخر اس کے کلام : میں یہ بحث ضرور آ جاتی ہے۔ ادھر مخالفوں کی کوششیں ادھر اس کی مساعی جمیلہ اس پر دعائیں کرتا ہے ، کتابیں لکھتا ہے، تقریریں کرتا ہے۔ غرض کیا ہے؟ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ (آل عمران:۵۶) کے حقیقی معنے لوگوں کے ذہن نشین ہو جائیں ۔ کیوں؟ اس موت سے خدا تعالیٰ کی زندگی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات ۔ اسلام کی زندگی اور قرآن کریم کی زندگی ثابت ہوتی ہے اور یہ قرآن شریف کی اعلیٰ درجہ کی خدمت ہے۔ غرض قرآن شریف وہ پاک اور مجید کتاب ہے جس کی اشاعت اور تبلیغ کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کو وہ محنت کرنی پڑی اور آج اس زمانہ کے امام اور خاتم الخلفاء کو وہ تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۱۳ مؤرخہ ۲۴ را پریل ۱۹۰۴ صفحه (۱۲) - إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَ الصَّبِئُونَ وَ النَّصْرَى مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَ الْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ - ترجمہ ۔ بے شک جو ایماندار ہوئے ہیں اور یہودی اور ستاروں کو پوجنے والے اور ہمہ حق کہنے والے صابی اور عیسائی (ان میں سے کوئی ہو ماننے والا تو وہ ہے ) جو اللہ کو مانے اور مرنے کے بعد آخرت میں جی اٹھنے کو مانے اور بھلے کام کرے ایسوں پر نہ کچھ خوف ہے اور نہ وہ گزشتہ کے لئے پچھتائیں گے۔ تفسیر وَالَّذِينَ هَادُوا - ہر قوم کو آخر اسلام کی طرف جھکنا پڑتا ہے۔ صابی حضرت ابراہیم کو عظیم الشان مانتے ہیں ۔ حضرت یحیی کو بھی ۔ وضو کرتے ۔ نماز قبلہ رخ ادا کرتے ہیں لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے میں تامل ہے۔ فرمایا کہ وہ جو اللہ پر ایمان لاتے اور آخرت پر اور نیک عمل کرتے ہیں ان پر زمانہ آتا ہے کہ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ہوں گے۔ خوف و حزن سے حزن سے محفوظ ہوں گے یعنی آخر اسلام لے میں تجھے وفات دینے والا ہوں تیری روح قبض کرنے والا ہوں ۔