حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 315
حقائق الفرقان ۳۱۵ سُورَةُ الْمَائِدَة اس آیت پر مجھے ایک مضمون سوجھا کرتا ہے کہ حضرت عمرؓ کیسے بڑے آدمی ، کیسے بڑے مدبر تھے اور بارعب ۔ حضرت عثمان" ایک چلتا پرزہ قوم بنوامیہ میں سے تھے۔ جن میں بڑے بڑے عقلمند اور رض رض تجربہ کار تھے۔ حضرت علی بڑے شجاع و بہادر تھے۔ مگر قتل کرنے والوں نے حضرت علی کو قتل کر دیا۔ ن عثمان کو مارنے والوں نے تمام صحابہ کرام کے سامنے مار دیا۔ حضرت ضرت عمرؓ کو نماز پڑھتے ہوئے ایک اکیلے شخص نے خنجر لگا دیا۔ حالانکہ وہ زمانہ اسلام کی پوری شوکت کا زمانہ تھا۔ ان لوگوں کے حضرت پاس حفاظت کے سامان بھی تھے ارد گرد سب خیر خواہ تھے مگر پھر بھی قتل کر ہی دیئے گئے۔ برخلاف اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتنی مشکلات میں ۔ عرب کا اکثر حصہ اور اپنے پرائے دشمن دشمن ۔ ۔ پھر کس تحدی سے جاہلوں کو لا کار کر پیشگوئی کی جاتی ہے۔ وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۔ اور یہ پیشگوئی پھر پوری نکلتی ہے۔ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْکٰفِرِينَ ۔ منکر لوگوں کو تیرے قتل کرنے کی کوئی راہ نہ سوجھے گی ۔ شیعہ قوم پر مجھے بار بار تعجب آتا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم کو ابوبکر، عمر کا خوف تھا حضرت علی کی خلافت کا اعلان نہ فرماتے تھے۔ اس لئے بَلغ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ " کا نزول ہوا۔ نادانوں کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ کا وعدہ موجود - پھر دو تین آدمیوں کا کیا خوف تھا۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۲ مورخه ۱۲ اگست ۱۹۰۹ صفحه ۸۷، ۸۸) لکھا ہے کہ اوّل مرتبہ میں جناب پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابی کو برعایت ظاہر اپنی جان کی حفاظت کے لئے ہمراہ رکھا کرتے تھے۔ پھر جب یہ آیت نازل ہوئی وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ یعنی خدا تجھ کو لوگوں سے بچائے گا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو رخصت کر دیا اور فرمایا کہ اب مجھ کو تمہاری حفاظت کی ضرورت نہیں۔ (الحکم جلد ۳ نمبر ۳۰ مؤرخه ۲۴ اگست ۱۸۹۹ صفحه ۲) اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی اس پاک کتاب کے پہنچانے میں کیا کیا مصائب اور مشکلات برداشت کیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک