حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 311 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 311

حقائق الفرقان ۳۱۱ سُورَةُ الْمَائِدَة کہتے اور ابراہیم کے فرزند کہلاتے تھے تو عیسائیوں پر اسی کا قیاس کرلو۔ ان کے پاس تو کوئی کتاب ہی نہ رہی تھی۔ اور کفارہ کے اعتقاد نے ان کو پوری آزادی اور اباحت سکھا دی تھی اور عربوں کا حال تو ان سب سے بدتر ہو گا جن کے پاس آج تک کتاب اللہ پہنچی ہی نہ تھی ۔ اور پھر یہ خصوصیت سے عرب ہی کا حال نہ تھا۔ ایران میں آتش پرستی ہوتی تھی سچے خدا کو چھوڑ دیا ہوا تھا اور اہرمن اور یزدان دو جدا جدا خدا مانے گئے تھے۔ ہندوستان کی حالت اس سے بھی بدتر تھی۔ جہاں پتھروں ، درختوں تک کی پوجا اور پرستش سے تسلی نہ پا کر آخر عورتوں اور مردوں کے شہوانی قومی تک کی پرستش جاری ہو چکی سے نہ تھی ۔ غرض جس طرف نظر اٹھا کر دیکھو ۔ جدھر نگاہ دوڑاؤ۔ دنیا کیا بلحاظ اخلاق فاضلہ کیا بلحاظ عبادات اور معاملات ہر طرح ایک خطر ناک تاریکی میں مبتلا تھی اور دنیا کی یہ حالت بالطبع چاہتی تھی کہ ع مردی از غیب برون آید و کاری میکند چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ایک رسول کو عربوں میں مبعوث کیا جیسا کہ فرمایا۔ ھو الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّنَ رَسُولًا مِنْهُم - ( الجمعة : (٣) یہ رسول صرف عربوں ہی کے لئے نہ تھا۔ باوصفیکہ عربوں میں مبعوث ہوا بلکہ اس کی دعوت عام اور کل دنیا کے لئے تھی جیسا کہ اُس نے دنیا کو مخاطب کر کے سنایا۔ يايُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمُ جَمِيعًا - (الاعراف:۱۵۹) اے لوگو میں تم سب کی طرف رسول ہو کر آیا ہوں اور پھر ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ وَمَا أَرْسَلُنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (الانبياء : ۱۰۸) یعنی ہم نے تم کو تمام عالموں پر رحمت کے لئے بھیجا ہے اسی لئے وہ شہر جہاں سرور عالم فخر بنی آدم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہور پایا ام القری ٹھہرا اور وہ کتاب مبین جس کی شان ہے لَا رَيْبَ فِيهِ (البقرة: ۳) وہ ام الکتاب کہلائی اور وہ لسان جس میں ام الکتب اتری وہ ام الالسنہ ٹھہری ۔ یہ محض خدا تعالیٰ کا فضل تھا جو آدم زاد پر ہوا۔ اور بالخصوص عربوں پر اس رسول نے آ کر کیا۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۲ مورخه ۱۰ ستمبر ۱۹۰۲ صفحه ۸،۷) ے ایک شخص غیب سے ظاہر ہوتا اور کارنامہ دکھاتا ہے۔ وہی اللہ جس نے امیوں میں (یعنی مکہ والوں میں ) رسول انہیں میں سے بھیجا۔