حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 310
حقائق الفرقان ۳۱۰ سُورَةُ الْمَائِدَة سَوَاءِ السَّبِيلِ ۔ پاک ، عمدہ، قریب راہ ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۲ مورخه ۱۲ راگست ۱۹۰۹ صفحه ۸۷ ) ان سے کہہ میں تمہیں ان قوموں کی خبر دوں ۔ جنہیں خدا کی طرف سے ان کے ایسے افعال کا بہت برا بدلہ ملا ۔ وہ وہ ہیں جنہیں خدا نے بندر اور سؤر اور شیطان کے پرستار بنا دیا۔ یہ بہت رے پایہ کے لوگ ہیں اور سب سے زیادہ راہِ حق سے دور بھٹکے ہو ۔ بھٹکے ہوئے ہیں ۔ ( نورالدین بجواب ترک اسلام - کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن صفحہ ۲۳۹) وہ جو اپنے آپ کو ابراہیم کے فرزند کہلاتے تھے ان کی نسبت قرآن ہی نے خود شہادت دی ہے۔ أَكْثَرُهُمُ الْفَسِقُونَ (آل عمران : (۱۱) ان میں اکثر لوگ فاسق تھے اور یہاں تک فسق و فجور نے ترقی کی ہوئی تھی کہ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ یہ اس وقت کے لکھے پڑھے علماء سجادہ نشین۔ خدا کی کتاب مقدس کے وارث لوگوں کا نقشہ ہے کہ وہ ایسے ذلیل وخوار ہیں جیسے بندر ۔ وہ ایسے شہوت پرست اور بے حیا ہیں جیسے خنزیر ۔ اس سے اندازہ کروان لوگوں کا جو پڑھے لکھے نہ تھے، جو کتاب مقدس کے وارث نہ تھے، جو موسیٰ کی گڑی پر نہ بیٹھے ہوئے تھے۔ پھر یہ تو ان کے اخلاق بد، عادات بد یا عزت و ذلت کی حالت کا نقشہ ہے۔ اگر چہ ایک دانشمند اخلاقی حالت اور عرفی حالت کو ہی دیکھ کر روحانی حالت کا پتہ لگا سکتا ہے۔ مگر خود خدا تعالیٰ نے بھی بتا دیا ہے کہ روحانی حالت بھی ایسی خراب ہو چکی تھی کہ وہ عبد الطاغوت بن گئے تھے۔ یعنی حدود الہی کے توڑنے والوں کے عبد بنے ہوئے تھے۔ ان کے معبود طاغوت تھے۔ اب خیال کرو کہ اخلاق پر وہ اثر ۔ روح پر یہ صدمہ عزت کی وہ حالت ! یہ ہے وہ قوم جو نَحْنُ ابْنُوا اللهِ وَ احِباؤُں کہنے والی تھی ۔ اس چھوٹے درجہ کی مخلوق کا خود قیاس کرلو۔ یہ نقشہ کافی ہے۔ عقائد کے سمجھنے کے لئے یہ کافی ہے۔ عزت و آبرو کے سمجھنے کے لئے کہ جو بندر کی عزت ہوتی ہے۔ پھر یہ نقشہ کافی ہے۔ اخلاق کے معلوم کرنے کے لئے جو خنزیر کے ہوتے ہیں کہ وہ سارا بے حیائی اور شہوت کا پتلا ہوتا ہے۔ جب ان لوگوں کا حال میں نے سنایا جو نَحْنُ آبنوا اللهِ وَاحِبَّاؤُنَ (المائدة: ١٩) لے ہم اللہ کے بیٹے ہیں اور اس کے پیارے ہیں۔