حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 309
حقائق الفرقان ۳۰۹ سُورَةُ الْمَائِدَة ٦١ - قُلْ هَلْ أُنَبِّئُكُمْ بِشَرٌ مِنْ ذَلِكَ مَثْوبَةً عِنْدَ اللَّهِ مَنْ لَّعَنَهُ اللَّهُ وَ غَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ أُولَئِكَ شَرٌّ مَكَانًا وَ أَضَلُّ عَنْ سَوَاءِ السَّبِيلِ ۔ ترجمہ ۔ بھلا میں تم کو بتا دوں ان (فرضی) عیب والوں سے زیادہ عیب والا اللہ کے نزدیک جزا میں وہ ہے جس کو اللہ نے در بدر کیا اور اس پر خفا ہوا اور ان میں سے بعض کو بندر اور بعض کو سور کی صفت والا بنادیا اور وہ پوجنے لگے سرکش شیطان کو یہی لوگ ہیں بدترین درجہ والے اور بہت ہی بھٹکے ہوئے سیدھی راہ سے۔ تفسير - قُلْ هَلْ أَنَيْنَكُمْ بِشَرٌ مِنْ ذَلِكَ - فَأَمَّا الْإِنْسَانُ إِذَا مَا ابْتَلَهُ رَبُّهُ فَاكْرَمَهُ وَ نَعَمَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَكْرَمَنِ وَأَمَّا إِذَا مَا ابْتَلَهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَهَانَنِ (الفجر :۱۲ (۱۷) سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتلاء دوقسم کے ہیں۔ ہمارے ملک میں اگر کسی سے پوچھتے ہیں کہ کیا حال ہے تو وہ کہتا ہے بڑا فضل ہے۔ جس سے مراد یہ ہے کہ مال مویشی ۔ اولا د سب کچھ ہے۔ اسی طرح فضل الہی کے چھن جانے سے بھی یہی مقصد ہوتا ہے کہ یہ چیزیں ہیں نہیں۔ اللہ تعالیٰ اسی سورۃ میں فرماتا ہے کہ فضل کا دار و مدار تو یتیم کے ساتھ سلوک کرنے۔ کسی مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب پر ہے اور یہ کہ مال سے زیادہ محبت نہ ہو۔ اس رکوع میں بعثت کے نشان فرمائے ہیں۔ ترجمہ یہ ہے کیا ہم اطلاع دیں تمہیں اس کی جس کو ایک برا نتیجہ ملا ہے۔ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ ۔ وہ ذلیل کر دیئے گئے ۔ چنانچہ یہودیوں کی نسبت ارشاد ہے ۔ الا ۔ گئے۔ کی بِحَبْلٍ مِّنَ اللَّهِ وَحَبْلٍ حَبْلٍ مِنَ النَّاسِ (آل عمران : ۱۱۳) اور لا تُنصَرُونَ - (هود: ۱۱۴) وَالْخَنَازِيرَ - مال دنیا کا حریص اور شہوت کا حریص ۔ عَبَدَ الطَّاغُوتَ - حد سے نکلنے والے کا فرماں بردار۔ لے پس جب انسان کو اس کا رب آزماتا ہے اور اس کو عزت اور نعمت دیتا ہے تو کہتا ہے میرے رب نے مجھے خوب عزت دی ۔ اور جب اس کا امتحان لینا چاہتا ہے اس کا رب ( اور طرح سے ) تو تنگ کر دیتا ہے اس پر روزی تو انسان کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کر دیا ۔ ۲ مگر کہ ہوں ساتھ حبل اللہ کے یا ساتھ جبل الناس کے۔ مددگار نہ ہوگا۔