حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 306 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 306

حقائق الفرقان ۳۰۶ سُورَةُ الْمَائِدَة ۵۵ - يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَفِرِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَابِمٍ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ - ترجمہ ۔ اے ایمان دارو! جو تم میں سے پھر جائے گا اپنے دین سے تو اللہ تعالیٰ لے آئے گا اور ایک ایسی قوم کو کہ وہ اللہ کو دوست رکھتی ہوگی اور اللہ ان کو دوست رکھتا ہو گا وہ نرم دل مومنوں کے سامنے اور منکروں پر سخت دل ہوں گے اللہ کی راہ میں جان و مال لڑا دیں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہے دے اور اللہ بڑی گنجائش والا اور بڑا جاننے والا ہے۔ تفسیر - يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِہ ۔ اس آیت میں جو معاملہ ہے وہ بظاہر تکلیف دہ ہے کسی شخص کا بھائی، بیٹا ، دوست، سچے مذہب سے پھر جائے تو اسے کس قدر رنج پہنچتا ہے۔ پھر صحابہ کرام کو اپنے قلت تعداد کی حالت میں اس قدر محنتوں سے مسلمان بنانے کے بعد پھر بھی کسی کا ارتداد دیکھنا پڑے تو کیا کچھ دکھ پہنچنا چاہیے تھا۔ لیکن خدا تعالیٰ اس معاملہ میں مومنوں کے لئے ایک بشارت دیتا ہے کہ ایک مرتد ہو تو میں تمہیں اس کے بدلے میں ایک قوم دوں گا اور وہ قوم بھی ایسی کہ میں ان سے محبت کروں گا اور وہ مجھ سے ۔ ایک دفعہ ایک لڑکے نے (جس کی پڑھائی پر میں نے ہزاروں روپیہ خرچ کیا تھا ) مجھے خط میں لکھا کہ میں ناپاک مذہب اسلام کو چھوڑتا ہوں ۔ مجھے بہت دکھ ہوتا کہ اگر یہ آیت معاً میرے ذہن میں نہ آجاتی ۔ اذلة - دراصل تھوڑوں کو کہتے ہیں۔ چونکہ تھوڑے عاجز ہوتے ہیں اس لئے مطلب یہ ہے کہ نرم دل ۔ یہ آیت شیعہ کے لئے کاری حربہ ہے۔ عرب میں بھی جب سلسلہ ارتداد شروع ہوا تو جو قوم ان کے مقابلہ میں اٹھی جسے يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَ کا سرته سر سر ٹیفکیٹ مل چکا ہو۔ وہ بالا تفاق حضرت ابوبکر اور ان کے پیرو تھے وہی کافروں پر غالب آئے ۔ وہ فی سبیل اللہ جہاد کرتے رہے اور وہی کسی سے نہیں ڈرے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۲ مؤرخه ۱۲ اگست ۱۹۰۹ صفحه ۸۶، ۸۷)