حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 300
حقائق الفرقان ۳۰۰ سُورَةُ الْمَائِدَة تفسیر ۔ اے رسول نہ غمگین کریں تجھے وہ لوگ جو کفر میں تیزی سے بڑھتے ہیں ان لوگوں میں سے جنہوں نے اپنے مونہوں سے کہا۔ ہم ایمان لائے۔ اور ان کے دل ایمان نہیں لائے ۔ وہ لوگ کان لگاتے ہیں کہ یہاں سے سن کر کر باہر جا کر جھوٹ پھیلائیں ۔ ۔ یا دوسرے مخالفوں کی بھی مان لیتے ہیں جو ابھی تیرے پاس نہیں آئے ۔ ٹھیک موقعوں سے بات کو الٹ پلٹ کر دیتے ہیں۔ کہتے ہیں اگر تم کو یہ تعلیم ملے تو لے لو۔ اور اگر یہ نہ ملے تو پر ہیز کرو اور جسے اللہ عذاب دینا چاہے تو اسے اللہ سے بچانے کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا۔ یہ ایسے لوگ ہیں کہ اللہ نے ان کے دلوں کو پاک کرنا نہیں چاہا۔ ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام ۔ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۰۳) جب انسان خدا کا ہو جاتا ہے تو اس کو تمام ذرات عالم پر ایک تصرف ملتا ہے اس کی صحبت میں ایک برکت رکھی جاتی ہے اور یہ ایک فطرتی بات ہے کہ ایک انسان کے اخلاق کا اثر دوسرے کے اخلاق پر پڑتا ہے۔ بعض طبائع ایسی بھی ہیں جو نیکوں کی صحبت میں نیک اور بدوں کی صحبت میں بد ہو جاتی ہیں۔ قرآن کریم میں ایسی فطرتوں کا ذکر آیا ہے سَمْعُونَ لِلْكَذِبِ سَمْعُونَ لِقَوْمٍ أَخَرِينَ بعض لوگ اس قسم کے ہیں کہ ہمارے پاس بیٹھ کر ہماری باتوں کو پسند کرتے ہیں ۔ جب دوسروں کے پاس جا بیٹھتے ہیں تو پھر ان کی باتیں قبول کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ متقیوں کی صحبت میں رہیں اور وہ وقت نہ ملے تو استغفار ، لاحول اور دعا کریں۔ دعا کی حقیقت سے لوگ کیسے بے خبر ہیں ۔ ( بدر جلدے نمبر ۳ مورخه ۲۳ جنوری ۱۹۰۸ ء صفحه ۱۰،۹) لَا يَحْزُنُكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ ۔ بعض وقت کفر کرنے والے کو آرام میں دیکھ کر ضعیف مومن کا دل گھبرا اٹھتا ہے کہ یہ بے ایمان ہو کر کیسے آرام اور عزت میں ہے۔ یہ دھو کہ ہوتا ہے ورنہ ہم نے کئی ایسے لوگوں کو بظاہر دیکھا ہے کہ اتنا بڑا مکان ہے اور اس میں ایک ہی بڑی دری ہے مگر ساتھ مرگی کا عارضہ ہے جو کثرتِ زنا کی وجہ سے ہے۔ اسی طرح ایک اور کو دیکھا۔ ہر وقت وہاں راگ و رنگ رہتا۔ آہستہ آہستہ موقع آیا کہ اس نے آتشک سے اپنا بالکل تباہ ہونا مانا۔ اور یہ صرف غم میں دل بہلانے کے لئے تھا۔