حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 296
حقائق الفرقان ۲۹۶ سُورَةُ الْمَائِدَة فساد کرنے کو دوڑتے ہیں۔ یہ ہے کہ قتل کئے جاویں یا سولی دیئے جاویں یا اس زمین سے جلا وطن کئے جاویں۔ یہ واسطے ان کے رسوائی ہے دنیا میں اور آخرت میں ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔ ( تصدیق براہین احمد یہ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۵۸) يُحَارِبُونَ الله - اللہ کے دین کا مقابلہ کرتے ہیں۔ مِنْ خِلافٍ ۔ بوجہ ان کی خلاف ورزی کے ۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ مجرموں کی کئی قسمیں ہیں پس ان کے موافق ان سزاؤں میں سے کوئی سزادی جاوے گی۔ خرى في الدُّنْيَا - یہ نشان ہے آخرت میں عذاب کا ۔ دنیا میں حسب پیشگوئی جب مل گیا تو آخرت کی خبر درست ہوگی ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۱ مورخه ۵ اگست ۱۹۰۹ صفحه ۸۴) ٣٦ - يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ - ترجمہ ۔ اے ایمان دارو ! اللہ کا خوف رکھو اور اس کو سپر بناؤ اور جناب الہی سے حاجت طلب کرو اور خوب کوشش کرو اللہ کی راہ میں اور قرآن میں مجاہدہ کرو تا کہ تم نہال و با مراد ہو جاؤ۔ تفسیر يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا الله - اصل مقصد ساری تعلیم کا تقویٰ ہے۔ تقوی کا ابتداء یہ ہے کہ ایمان بالغیب خدا پر ہو۔ دعا میں لگا ر ہے۔ کچھ ہاتھ سے دے۔ پھر اس سے بڑھ کے بڑھ کر کسی نبی پر بدگمان نہ ہو ۔ الہی کتابوں پر ایمان رکھے۔ قرآن مجید کو اللہ کی طرف سے جانے ۔ دوسرا مرتبہ وہ ہے جو رکوع سورة بقره ليس البر (البقرة : ۱۹۰) میں اللہ پر ، ملائکہ پر، کتب پر، انبیاء پر ایمان ہو۔ ذوی القربی ۔ یتامی ، مساکین وغیرہ کو دے۔ صبر واستقلال سے بسر کرے۔ تیسرا مرتبہ - آخری یہ ہے کہ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا (حم سجدہ: ۳۱) اور قُلِ الله ثُمَّ ذَرْهُمْ (الانعام: (۹۲) اللہ ہی اللہ رہ جائے ۔ یاد رکھو معاشرت کے اصولوں میں سے اعلیٰ لے جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب تو اللہ ہی ہے ( پھر سب کا دھیان اور مطلق گناہ چھوڑ دیا) اور اسی حالت پر جمے رہے۔ ے تو کہہ دے فقط اللہ ہی نے (اتارا ہے ) پھر ان کو چھوڑ دے۔