حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 290 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 290

حقائق الفرقان ۲۹۰ سُورَةُ الْمَائِدَة اس کو کسی کے ساتھ مخلوق میں ذاتی رنج و غضب ہوتا ہے اور نہ کسی کے ساتھ مخلوق میں سے ذاتی محبت اور تعلق ہوتا ہے۔ اس کی محبت خلق سے ہوتی ہے مگر یلہ ۔ وَ بِاللهِ - وَ فِی اللہ ہوتی ہے۔ اور اس کا بغض بھی ہوتا ہے مگر یله و بالله - وفي الله ہوتا ہے ۔ وہ فانی باللہ اور باقی باللہ ہو جاتا ہے۔ اس کا کھانا صرف اس لئے ہوا کرتا ہے کہ جناب الہی نے کلوا کا حکم دیا ہے اور ایسے آدمی کا پینا اس لئے ہوتا ہے کہ اس کو پینے میں البی ارشاد ہے وَ اشْرَبُوا اور اس کا بی بی سے محبت و پیار اسی واسطے ہوتا ہے کہ عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ کا حکم ہے۔ پس شهوت و غضب ، طمع و جزع، عجز وکسل، بے استقلالی وغیرہ رذائل اس میں نہیں رہتے وہ انعامات کے وقت اگر شکر کرتا ہے تو ارشاد الہی سے۔ اگر مصائب پر صبر کرتا ہے تو رضاء الہی کے لئے ۔ وہ اپنے اور دوسرے کے معاصی پر اس لئے ناراض ہوتا ہے کہ اس کا مولیٰ ان باتوں پر ناراض ہے۔ وہ مشرکوں ، بے ایمانوں ، شریروں پر تلوار اٹھاتا ہے مگر الہی ہتھیار بن کر ۔ یہی قربانی ہے جس کے بارے میں ارشاد ہے۔ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُتِلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَ لَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ قَالَ لَا قُتُلَنَّكَ قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ - ( المائدة : ۲۸) جب ان دونوں نے قربانی دی۔ آخر ایک کی قبول ہوئی اور دوسرے کی رد ہوئی۔ اس نے کہا میں تجھے مار ڈالوں گا۔ اس نے کہا۔ اللہ متقیوں کی قربانی قبول کیا کرتا ہے۔ دوسری انسانی قربانی جس کو اسلام نے جائز رکھا ہے جوانانِ قوم اور مدبران ملک کی قربانی ہے مگر اس وقت کے بڑے بڑے سیاسی بلاد یورپ و امریکہ ۔ ہاں عام بلاد کا ذکر کیوں کریں۔ خود انگلستان نے میری ذرہ سی شخصی زندگی میں جہاں انڈیا ، کابل، پنجاب، دہلی کے غدر، سوڈان ، خرطوم ، ٹرانسوال اور صومالی لینڈ وغیرہ جزائر میں صرف تجارت یا یوں کہو حکومت کے لئے لاکھوں نیئر اور ڈیرے قربانی کئے ہیں تو وہاں ان تراشے گلوں نے اپنے ملک و قوم کو تو دنیا کے صراط پر سے کیا گزارا۔ قریبی اور عزیز)۔ مرتب( NEAR AND DEAR I