حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 285
حقائق الفرقان ۲۸۵ سُورَةُ الْمَائِدَة تفسیر۔ کیسا ہی بدقسمت ہے وہ انسان جو اسباب کو مہیا نہیں کرتا۔ اور وہ انسان تو بہت ہی بد قسمت ہے جس کو اسباب میسر ہوں لیکن وہ ان سے کام نہ لے۔ اب میں تمہیں توجہ دلانی چاہتا ہوں ۔ گھر کی حالت پر ۔ تمہیں یا مجھے یا ہماری موجودہ نسلوں کو وہ وقت تو یا د ہی نہیں جب ہم اس ملک کے بادشاہ تھے۔ سلطنت بھی خدا تعالیٰ کے انعامات میں سے ایک بڑی نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ فرمایا جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِيَاءَ وَجَعَلَكُمْ قُلُوكًا یعنی اے میری قوم خدا نے تجھ میں انبیاء کو مبعوث فرمایا اور تجھ کو بادشاہ بنادیا۔ جب قوم کی سلطنت ہوتی ہے تو قوم کے ہر فرد میں حکومت کا ایک رنگ آجاتا ہے۔ ہاں ہمیں تو وہ وقت یاد نہیں جب ہم بادشاہ تھے۔ اچھا تو قوم کی سلطنت اب ہے نہیں اور خدا کا شکر بھی ہے کہ نہیں ہے کیونکہ اگر ہوتی تو موجودہ نا اتفاقیاں ۔ یہ لاچاریاں ۔ یہ بیکسی اور بے بسی ۔ خود رائی اور خود بینی ہوتی ضروریاتِ زمانہ کی اطلاع نہ ہوتی تو کس قدر مشکلات کا سامنا ہوتا۔ اور کیسے دکھوں میں پڑتے۔ بیرونی حملہ آور اندرونی بغاوتوں کو دیکھ کر حملہ آور ہوتے اور ہلاک کر دیتے تو یہ خدا کا رحم ہے جو اس نے سلطنت لے کر دوسروں کے حوالے کی اور ہم کو اس دکھ سے بچالیا جو اس وقت موجودہ حالت کے ہوتے ہوئے ہمیں پہنچتا۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۱ء صفحہ ۶-۷) ٢٢ - يُقَوْمِ ادْخُلُوا الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِي كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَرْتَدُّوا عَلَى ادْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوا خَسِرِينَ - ترجمہ ۔ اے قوم اس پاک ملک میں داخل ہو جاؤ جس کو اللہ نے تمہارے لئے محفوظ رکھا ہے ( اور لکھ دیا ہے کہ وہ تمہیں کو ملے ) اور تم الٹے پھر و تو تم بڑے ٹوٹا پانے والے ہو جاؤ گے۔ تفسیر۔ بندے ایک وہ ہوتے ہیں جن کو الہام ہوتا ہے ۔ خدا تعالیٰ ان کو فہم عطا کرتا ہے اور اپنے فہم سے خدا تعالیٰ کی باتوں کو سمجھتے ہیں۔ ایک وہ ہوتے ہیں کہ جن کو نہ الہام ہوتے ہیں نہ خدا ان کو تفہیم کرتا ہے لیکن ان کو وسعت نظر حاصل ہوتی ہے اور علم وسیع ہوتا ہے۔ تیسرے وہ ہوتے ہیں جن کو نہ علم ہوتا ہے نہ تفہیم الہیہ ۔ ان تیسری قسم والوں کو پہلی دو قسم والوں کی