حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 269 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 269

حقائق الفرقان ۲۶۹ سُورَةُ الْمَائِدَة ہوں ۔ وہ جمعہ کا دن تھا۔ وہ عرفہ کا دن تھا۔ وہ اسی عید الاضحیہ کا مقدمہ تھا۔ عرفات میں نازل ہوئی تھی۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روز زندہ رہے۔ یوں تو اللہ جل شانہ کا نزول ہر روز خاص طرز پر رات کے آخر ثلث میں ہوتا ہے مگر جمعہ کے دن پانچ دفعہ اور عرفات کو نو دفعہ نزول ہوتا ہے۔ احادیث صحیحہ سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ شیطان ایسا کبھی پاس میں نہیں ہوتا۔ جیسے عرفات کے دن۔ یہ وہ دن ہے کہ اللہ جل شانہ نے ہماری نعماء دینیہ کے لئے جس کتاب کو نازل فرمایا تھا اسے کامل کر دیا۔ کامل دین جس کا نام اسلام ہے اسے اسی دن کامل کر دیا جس دین کی متابعت ضروری اور اس پر کار بند ہونا سعید انسان کو لازم ہے ۔ اس کے اصول اور فروع اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن میں تمام و کامل کر دیئے وہ چیز جس کو کامل طور پر تمہیں نہیں بلکہ دنیا کو پہنچانے کے لئے سرور عالم فخر بنی آدم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ساری دعاؤں اور کل طاقتوں اور مساعی جمیلہ کو پورے طور پر لگا یا تھا۔ اس کا نام اسلام ہے۔ اور اس کی تکمیل کا دن جمعہ کا مبارک دن اور عرفات کا پاک دن ہے۔ تمام ادیان مروجہ اور مذاہب موجودہ کا مقابلہ کرنا چاہیں اور غور کر کے دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ کیا بلحاظ اصول کے اور کیا بلحاظ حفظ اصول اور فروع کے وہ اسلام کے مقابلہ میں کچھ حقیقت ہی نہیں رکھتے ۔ اور بالکل بیچ دکھائی دیتے ہیں اس کے اہم ترین امور میں سے اللہ جل شانہ کا ماننا۔ اس کو اسماء حسنی اور صفات و محامد میں یکتا و بے ہمتا ماننا ہے جس کا خلاصہ لَا اِلهَ إِلَّا اللہ میں موجود ہے جس کا نام افضل الذکر ہے اور جس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ گل نبیوں کی تعلیم کا خلاصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے ۔ اور آج میں بھی کہتا ہوں أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَةً لَا شَرِيكَ لَهُ - اس کی حقیقت یہ ہے انسان اللہ تعالیٰ کی ہستی کے برابر اور ہستی کو یقین نہ کرے۔ اور اللہ تعالیٰ کے اسماء میں ا ، اسماء میں افعال میں یکتا ، وجود و بقاء میں یکتا ، وجود و بقاء میں یکتا۔ تمام نقائص سے منزہ اور تمام خوبیوں سے معمور یقین کرے۔ وہی معبود حقیقی ہے اس کے سوا کسی دوسرے کی عبادت جائز نہیں ۔ عبادت کا مدار ہے حسن واحسان پر ۔ پھر یہ دونوں باتیں بدرجہ کامل کس میں لے ۹۰ (نوے)۔ مرتب