حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 268
حقائق الفرقان ۲۶۸ سُورَةُ الْمَائِدَة اور ہمارے صوفیا کرام نے تو یہاں تک احتیاط اور تاکید کو اختیار فرمایا ہے کہ وہ کہتے ہیں ما کا لفظ جو مآ اھل میں آیا ہے۔ وہ عام اور وسیع ہے۔ پھر حضرت شیخ ابن عربی نے فتوحات مکیہ میں لکھا ہے۔ دیکھو فتوحات مکیہ جلد نمبر ۳ صفحہ نمبر ۶۲۱ باب نمبر ۳۹۸ والشعرُ في غَيْرِ اللهِ مَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللهِ بِهِ فَإِنَّهُ لِلنِّيَّةِ بِهِ أَثَرُ فِي الْأَشْيَاء وَاللَّهُ يَقُولُ - وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُ اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ ۔ ( البينه - ٦ ) غیر اللہ کے لئے شعر کہنا ما أُهِلَّ لِغَيْرِ الله سے ہے کیونکہ نیت کا اثر چیزوں میں ہوا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور نہیں حکم کئے گئے وہ لوگ مگر اس بات کا کہ عبادت و پرستش کریں اللہ کی صرف اس لئے خالص کرنے والے ہوں اپنے دین کو۔ ہم نے اپنی کتاب میں ایسے شعروں سے پر ہیز کیا ہے جو کسی محبوب مجازی کے حق میں یا غیر اللہ کے لئے وہ شعر بولے گئے کیونکہ وہ مَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللهِ ہیں اور وہ حرام ہیں ۔ دوم ان تمام سوختنی قربانیوں سے روک دیا گیا ہے۔ جو اشیاء آگ میں تباہ کی جاتی ہیں اور جن کا ذکر صد ہا بلکہ ہزار ہا باریجر ، رگ ، سام ویدوں میں ہوا ہے ۔۔۔۔ تیسری وہ تمام قربانیاں موقوف کر دیں جن میں یہ خیال پیدا ہو سکے کہ وہ تراکیب ہمارے گناہوں بدکاریوں ، نافرمانیوں کا کفارہ ہوں گی ۔ ایسی ہی قربانیوں نے جو ایک بڑے کی ہوئی یا نہ ہوئی تمام عیسائیوں کو دلیر و بے باک کر دیا ہے۔ ( نورالدین بجواب ترک اسلام - کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۷۹-۱۸۱) الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا - یہ آیت شریف قرآن مجید میں کس وقت نازل ہوئی؟ ایک یہودی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ ایک آیت آپ کی کتاب میں ہے۔ اگر ہماری کتاب میں ہوتی تو جس دن وہ اتری تھی اسے عید کا دن قرار دیتے ۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا کہ وہ کون سی آیت ہے تو اس نے یہ آیت پڑھی الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا - جناب عمر نے فرمایا کہ یہ آیت کب نازل ہوئی ؟ کس وقت نازل ہوئی؟ کہاں نازل ہوئی؟ میں اسے خوب جانتا