حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 267
حقائق الفرقان ۲۶۷ سُورَةُ الْمَائِدَة شیر باوجود اتنا بہادر ہونے کے اپنے دشمن کے مقابلہ میں احتیاط کرتا ہے اِدھر اُدھر ہو کر حملہ کرتا ہے۔ مگر سور غضب کے وقت سیدھا آتا ہے اسی طرح اس جانور میں شہوت بڑی ہوتی ہے۔ تمام گناہوں کی مبدء یہی دو قو تیں ہیں ۔ غضب و شہوت ۔ اس لئے اس کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ به ۔ پھر وہ چیزیں ہیں جن پر غیر اللہ کا نام لیا جاوے۔ ان کا کھانا بلحاظ عقائد اللہ سے بعد میں ڈال دیتا ہے۔ اس کے بعد مينة اور ما اهل کی کچھ تفصیل دی۔ پہلے پہلے اسلام نے عقائد سکھائے ۔ اللہ کی عظمت۔ پھر ملائکہ پھر رسولوں پھر کتابوں کا علم سکھایا۔ پھر عبادت کے طریق بتلائے۔ پھر زکوۃ ، روزہ، حج ، پھر بتدریج سکھاتے سکھاتے تمدن کے ضروری مسائل سکھائے ۔ پھر کھانے پینے کے مسئلے بھی بتا دیئے ۔ اس پر کہا کہ اب تو تمہارا کھان پان بھی بیان ہو چکا اس لئے شریعت کے اصول کامل ہونے سے کا فرناامید ہو گئے ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۱ مورخه ۵ اگست ۱۹۰۹ صفحه ۸۲، ۸۳) حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللهِ بِه - حرام کیا گیا تم پر مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جس پر اللہ کے غیر کا نام پکارا جائے۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام - کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۷) اسلام نے بعض قربانیوں کو قطعا حرام اور نیست و نابود کر دیا ہے۔ اوّل وہ قربانیاں جن میں بت پرستی اور شرک ہو ۔ کیونکہ شرک میں مبتلا انسان بحیثیت مشرک ہونے کے حقیقی اسباب کو ترک کر کے اپنی دیوی دیوتا سے امیدوار کامیابی کا ہوتا ہے اس لئے حقیقی کامیابی سے محروم رہتا ہے اور دوسرے ان مشرکوں اور پجاریوں کو اپنی اپنی دکان گرم کرنے کے لئے صدہا جھوٹے قصے بنانے پڑتے ہیں اس لئے توحید کی حامی شریعت نے ایسی تمام قربانیوں کو باطل کر دیا اور محرمات میں اس کو رکھ دیا اور فرما یا حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّاهُ وَ لَحْمُ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ الله به ( المائدة : ۴) - حرام کیا گیا تم پر مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ چیزیں جن پر اللہ کے سوا کا نام پکارا جاوے۔