حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 261 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 261

حقائق الفرقان ۲۶۱ سُورَةُ النِّسَاء ۱۷۷ - يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللهُ يُفْتِيكُمُ فِي الْكَلَلَةِ إِنِ امْرُوا هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَ لَهُ اخْتُ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ وَهُوَ يَرِثُهَا إِن لَّمْ يَكُنْ لَهَا وَلَدٌ فَإِنْ كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثْنِ مِمَّا تَرَكَ وَإِنْ كَانُوا إِخْوَةً رِجَالًا وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ يُبَيِّنُ اللهُ لَكُمْ أَنْ تَضِلُّوا وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ - ترجمہ ۔ تجھ سے فتوئی مانگتے ہیں کلالہ میں ۔ کہہ دو اللہ حکم دیتا ہے تم کو کلالہ میں اگر کوئی ایسا مردمر گیا جس کی اولاد نہیں اور اس کی صرف ایک بہن ہو تو بہن کو اس کے ترکہ کا آدھا اور وہ بھائی اس بہن کا وارث ہے اگر اس کی کوئی اولاد نہ ہو۔ پھر اگر دو بہنیں ہوں تو ان کو دو تہائی کل تر کے کا۔ اور اگر کئی بھائی بہن ہوں مرد اور عورتیں تو مرد کا حصہ عورت کے دو حصہ کے برابر ہے۔ اللہ کھول تشحید الا ذہان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۵۰) کھول کر بیان کرتا ہے تم سے تا کہ نہ بہکو۔ اور اللہ ہر ایک شے کا خوب جاننے والا ہے۔ تفسیر - يَسْتَفْتُونَكَ - ربط پہلی آیات سے یہ ہے کہ مسیح مر چکا۔ وہ کلالہ تھے اس لئے اس کے بھائی اسمعیلی میلی وارث ہوئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے وقت قلم دوات منگائی اور چاہا کہ میں تم کو ایسی بات لکھ دوں کہ آن تَضِلُّوا ( کہ تم میرے بعد کبھی گمراہ نہ ہو ) ۔ جن لوگوں کی عقل باریک اور سمجھ مضبوط اور علم کامل تھا وہ سمجھ گئے کہ انہوں نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے پاک کلام کی طرف متوجہ کیا اور جن کی زبان پر حق چلتا تھا۔ اس نے اس بات کا یقین کر لیا کہ آپ جو بات ہمیں لکھنا چاہتے تھے۔ وہ یہی پاک کتاب تھی۔ چنانچہ اس نے صاف کہا کہ حَسْبُنَا كِتَابَ اللہ یہ ایک نکتہ معرفت ہے جو ایک زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کھولا تھا۔ آنحضرت کی زبان سے یہ الفاظ نکلے ہیں کہ میں ایسی بات لکھ دوں کہ ان تضِلُّوا دوسری طرف قرآن شریف میں یہ آیات موجود ہیں يُبَيِّنُ اللهُ لَكُمْ أَنْ تَضِلُّوا بمعنے لِئَلَّا تَضِلُّوا پس تطابق سے صاف یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ قرآن ایک کا فی کتاب ہے۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۸ مؤرخہ ۱۴ جون ۱۹۰۸ ء صفحہ ۷ ) لے ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے۔