حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 254 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 254

حقائق الفرقان ۲۵۴ سُورَةُ النِّسَاء ☆ متکلم کے کلام کے معنے کرنا چاہیے۔ مثلاً جب سیدنا نبی عرب صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا لفظ لا إله الا اللہ یا بِسْمِ اللہ میں بولا تو اللہ تعالیٰ نے ہی جس کے الہام سے آپ نے یہ کلمہ توحید کا لوگوں کو سنایا پھر آپ کو اپنے پاک الہام سے آگاہ فرمایا کہ تیرے مخاطب عید عیسائی ہیں جو مسیح کو خدا کا بیٹا مانتے ہیں یا عرب کے مشرک جو فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہتے ہیں ۔ اللہ کے لفظ سے یقیناً وہ ایسا اللہ سمجھیں گے جو کہ باپ ہو بیٹا ہو بیٹیاں رکھتا ہو یا تیرے مخاطب مجوسی ہوں گے جن کا یہ اعتقاد ہے کہ خداوند یزداں کا ایک دوسرا جوڑی بھی ہے جو کہ شرکا خالق ہے اور جسے اہرمن کہتے ہیں اور یزداں ایسا ہے جس کے ماتحت ہزاروں رب النوع آسمانی روشن ستارے کام کرتے ہیں تو کہہ دے کہ میری مراد اللہ کے لفظ سے وہ چیز نہیں جسے تم اللہ کہتے ہو بلکہ اور چیز ہے ۔ جیسے فرمایا قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ - اللهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ وَ لَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا احَدٌ - (الاخلاص : ۲ تا ۵) ناظرین! ایسا ہی روح کا لفظ تھا اس لفظ کو جب عیسائیوں نے سنا تو لگے اپنے مذاق واعتقاد پر اس کے معنے بنانے ۔ مگر ان کو مناسب تھا کہ قرآن کے مذاق اور مشن کو دیکھتے اور اسی کے مطابق و مذاق پر قرآن میں روح کے معنے کرتے ۔ اگر ان سے اتنا نہ ہو سکا تو کم سے کم وہ اتنا تو کرتے کہ عربی زبان کے مطابق قرآنی لفظ روح کے معنے لیتے ۔ کیونکہ قرآن کریم عربی میں نازل ہوا۔ پس ہم ان کو بتاتے ہیں کہ قرآنی لفظ روح قرآن میں کن کن معنوں پر بولا گیا ہے اور پھر بتاویں گے کہ عربی زبان میں اس لفظ کے اور کیا معنے ہیں ۔ اس بیان سے بہتوں کو حیرت ہوگی کہ روح کی تحقیق میں لوگ کیسے کیسے غلطی میں پڑے ہیں اور بات کیسی صاف ہے۔ سنو ! اول روح کا لفظ کلام الہی پر بولا گیا ہے اور اسی واسطے قرآن مجید کو روح کہا ہے ۔ ثبوت وَ كَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِنْ أَمْرِنَا مَا كُنْتَ تَدْرِي مَا الْكِتَبُ وَلَا الإِيمَانُ - (الشورى : ۵۳) اور اسی طرح وحی کی ہم نے تیری طرف ایک روح ( قرآن ) اپنے حکم سے۔ تجھے کیا خبر تھی کہ کتاب اور ایمان کیا ہوتا ہے۔ (۲) يُنَزِّلُ الْمَلِيلَةَ بِالرُّوحِ مِنْ أَمْرِهِ عَلَى مَنْ او مخاطب ! تو کہہ دے ! اصل بات تو یہ ہے کہ خود بخود ہستی جس کا نام اللہ ہے پوجنے کے لائق فرمانبرداری کا