حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 250
حقائق الفرقان ۲۵۰ سُورَةُ النِّسَاء یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ وحی ان معمولی وحیوں سے نہیں بلکہ یہ وہ ہے جو اولوالعزم رسولوں کی طرف بھیجی جاتی رہی ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۱ مورخه ۵ اگست ۱۹۰۹ صفحه ۸۱) ۱۶۵ - وَ رُسُلًا قَدْ قَصَصْنَهُمْ عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ وَ رُسُلًا لَّمْ نَقْصُصُهُمْ عَلَيْكَ وَكَلَّمَ اللهُ مُوسَى تَكْلِيمًا - ترجمہ ۔ اور بہت سے رسول ہیں جن کا حال ہم بیان کر چکے تجھ سے پہلے ہی اور بہت سے رسول ہیں جن کا حال نہیں سنایا ہم نے تجھ کو ، اور موسیٰ سے اللہ نے باتیں کیں صریح الفاظ میں ۔ تفسیر کلام کے لفظ کے ساتھ بھی جب تک تکلینا وغیرہ کا لفظ نہ ہو یا قرائن نہ ہوں تب تک اس کے معنے بھی زبان سے کلام کرنے کے نہیں ہوتے جیسا کہ قرآن شریف میں ہے كَلَّمَ اللهُ مُوسی تكليما (النساء : ۱۶۵) تکلیما کے لفظ نے یہاں اس امر کو صاف کیا ہے کہ ضرور مکالمہ ہی تھا۔ اس امر کے سمجھنے کے لئے کہ کون سا ایسا مقام ہوتا ہے کہ وہاں قال کا لفظ ہو اور اس کے معنے کلام الہی کے ہوں ۔ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا اللہ تعالیٰ کا مخاطب کوئی اس کا برگزیدہ اور صاحب فضل شخص ہے کہ نہیں؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ برگزیدوں سے ہی کلام کرتا ہے شریر اور بدکار اس کے خطاب کے مستحق نہیں ہوتے جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِنْهُمْ مَنْ كَلَّمَ الله (البقرۃ: ۲۵۴) یہاں اس امر کی تخصیص ہے کہ خدا تعالیٰ ہمیشہ رسولوں یا رسول صفت انسانوں سے ہی کلام کرتا ہے۔ البدر جلد ۴ نمبر ۶ مورخه ۱۸ / فروری ۱۹۰۵ صفحه ۷ ) ۱۶۹، ۱۷۰ - إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَ ظَلَمُوا لَمْ يَكُنِ اللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ طَرِيقًا - إِلَّا طَرِيقَ جَهَنَّمَ خَلِدِينَ فِيهَا أَبَدًا وَ كَانَ ذَلِكَ عَلَى اللهِ يَسِيرًا - ترجمہ ۔ بے شک جنہوں نے حق کو چھپایا اور شرک اور بے جا کام کیا تو اللہ ان کی مغفرت نہ کرے گا اے یہ سب رسول ہیں ان میں سے ہم نے بعض کو بعض پر بزرگی دی اُن میں سے بعض تو ایسے ہیں کہ ان سے اللہ نے باتیں کیں۔