حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 16
حقائق الفرقان ۱۶ سُورَةُ آل عِمْرَان اس لا إِلهَ إِلَّا الله کی گواہی اللہ نے دی ہے گواہی ہمیشہ چند آدمیوں کے سامنے دی جاتی ہے۔ جناب الہی کی گواہی کے ساتھ بھی تمام رسول تمام انبیاء اور تمام اولیاء سب کے سب گواہی دیتے ہیں کہ اللہ نے ہم کو کہا ہے لا إِلهَ إِلَّا الله - حضرت موسیٰ کی گواہی ، حضرت نبی کریم کی گواہی سے قرآن شریف بھرا پڑا ہے کہ اللہ نے ان کو فرمایا لا إِلهَ إِلَّا الله ۔ ہر فرد کے سامنے گواہی ضروری نہیں ہوتی ۔ میری دانست میں اللہ کی ہستی اور نبیوں کی صداقت پر یہ بڑی بھاری دلیل ہے کہ تمام انبیاء تمام اولیاء تمام مجددین سب کے سب متفق ہیں اس بات پر کہ لا الهَ إِلَّا الله معبود حقیقی خدا ہے اور اپنے حسن و احسان علم و قدرت میں کامل ہے اور انسان بڑے آ اور انسان بڑے انکسار و تذلل کے نیچے ہے ۔ دس ، ہیں، تیں، چالیس، پچاس جس بات کے گواہ ہوں وہ بات بھی قابل اعتماد ہوتی ہے۔ کیا حال ہے اس گواہی کا جس کے لئے تمام صداقت کے عاشق صداقت کے محب اس بات پر متفق ہیں۔ اس صداقت کے لئے کوئی بڑا تعلق کوئی بڑا ہی فضل حضرت محمد رسول اللہ پر اللہ کا ہے۔ دنیا میں ہزاروں انبیاء آئے ان کی تعلیم کا نام و نشان بھی نظر نہیں آتا پتہ ہی نہیں لگتا۔ پھر ان کی کتابوں کی زبانیں ہی ایسی پرانی ہیں کہ ان کے سمجھنے کے سب سامان مفقود ہو گئے ۔ مجھے کبھی کبھی تعجب آتا ہے۔ آر یہ مذہب پر کہ دوارب برس سے وید ہیں ۔ ویدوں کی لغت کا نام لیتے ہیں تو دو چار ہزار برس سے بتاتے ہیں ۔ بھلا دو ارب کی بات دو چار ہزار برس والے کو کیا معلوم ۔ یہ ایک فضل ہے ہم لوگوں پر ۔ ( بدر جلد ۱۰ نمبر ۹، ۱۰ مورخه ۵ جنوری ۱۹۱۱ ء صفحه (۱۵) شهد الله - یہ گواہی انبیاء نے دی ہے پھر ان کے متبعون نے سنی ہے۔ خود خدا بولا ہے اور اس نے اپنی زبان سے فرمایا ہے کہ میں یگانہ معبود خلائق ہوں۔ میں خود بھی گواہ ہوں کہ اللہ نے اپنی ذات کی نسبت گواہی دی۔ اس نے مجھے فرمایا مَنْ جَمَعَ الْقُرْآنَ فَقَدْ تَصِنْ تَصَانَ - تَصِنُ کے معنے میں نہیں جانتا۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۱ مورخہ ۲۷ مئی ۱۹۰۹ ء صفحه ۵۵)