حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 247 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 247

حقائق الفرقان ۲۴۷ سُورَةُ النِّسَاء تک مسیح کے منکروں کا وجود بھی رہے۔ پھر اس آیت کے یہ معنے کسی طرح صحیح ہوں گے؟ اس کے سوا دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلَى يَوْمِ القيمة (المائدة : ۱۵) یعنی ہم نے قیامت تک عیسائیوں اور یہودیوں میں عداوت اور بغض ڈال دیا ہے۔ اس آیت سے بھی صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں میں قیامت تک بغض اور عداوت کا رہنالازمی ہے لیکن اگر آیت اِنْ مِنْ أَهْلِ الکتب کے وہی معنے تسلیم کئے جاویں تو اس آیت کا مضمون صادق کس طرح ٹھہرے گا ؟ پھر ایک اور آیت ہے۔ وَ الْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ ( المائدة : ۶۵) یہ آیت بھی اس مضمون کی ہے اور پھر ایک اور آیت لا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ (هود : ۱۱۹) بھی یہی ظاہر کرتی ہے۔ ان تمام آیات پر یکجائی نظر کرنے سے یہ امر نہایت صفائی کے ساتھ کھل جاتا ہے کہ یہود اور عیسائیوں میں قیامت تک مخالفت اور عداوت باقی رہے گی لیکن اگر سب کے سب ایمان لے آئیں تو پھر ان آیات کی معاذ اللہ تکذیب کرنی پڑے گی ۔ بلکہ قرآن مجید پر اعتراض کرنے کا موقع دینا ہوگا۔ اور ہماری تو سمجھ میں ہی نہیں آتا کہ یہودی اور عیسائی باہم مل کس طرح سکتے ہیں کیونکہ یہودی مسیح کی نبوت تک کے بھی قائل نہیں بلکہ ان کو معاذ اللہ ملعون ٹھہراتے ہیں اور عیسائی ان کو خدا بناتے ہیں اور تورات میں کسی خدا کے آنے کی کوئی بشارت دی نہیں گئی۔ اگر بفرض محال مان بھی لیا جاوے کہ وہ تو رات کو چھوڑ کر مسیح کو مان لیں گے تو وجہ اختلاف باقی نہ رہے گی ۔ اس کے علاوہ ایک اور بات بھی قابل غور ہے کہ یہودیوں نے اول مسیح کا انکار کیوں کیا ؟ اس کی وجہ تو وہی ملا کی نبی کا صحیفہ تھا جس میں مسیح کے آنے سے پہلے ایلیا کا آنا لکھا تھا اور یہی سوال علماء یہود نے مسیح سے کیا تھا۔ جنہوں نے ایلیا کا آنا برنگ یوحنا بتایا۔ اب ان کی دوبارہ آمد پر خواہ وہ بفرض محال آسمان سے بھی اترتے کیوں نہ نظر آجا ئیں یہودی جب تک ایلیا کو اترتا نہ دیکھ لیں گے کبھی مسیح کو مان ہی نہیں سکتے ۔ پس ایسا خیال نہ صرف قرآن کریم کی ان آیات کے متعارض اور مخالف ہے بلکہ عقلی دلائل اور مشاہدہ بھی ے یہ ہمیشہ اختلاف میں رہیں گے۔