حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 13
حقائق الفرقان ۱۳ سُورَةُ آل عِمْرَان وَ اللهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ انسان نگرانی میں غلطی بھی کرتا ہے مگر اللہ تعالیٰ بہت عمدہ نگران حال ہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۱ مورخه ۲۷ مئی ۱۹۰۹ صفحه ۵۵) ١ - الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا إِنَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرُ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ - ترجمہ۔ جو لوگ کہتے ہیں اے ہمارے رب! ہم نے مانا ( تجھے اور تیری سب باتوں کو ) تو تو ہمارے عیب ڈھانپ دے اور گناہ بخش دے اور ہم کو بچالے آگ کے عذاب سے۔ تفسیر - الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا متقی کی تعریف سورہ بقر میں ہے يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ يقولون وَمِمَّا رَزَقْتُهُمْ يُنْفِقُونَ (البقرۃ: ۴) یہ میرا تجربہ ہے کہ جو لوگ یہ تین صفتیں نہیں رکھتے ۔ یعنی غیب پر ایمان ۔ دُعا مانگنے کی عادت۔ کچھ خدا کی راہ میں خرچ کرنا۔ وہ کبھی ہدایت نہیں پاتے۔ پھر لیس البر (البقرۃ : ۱۷۸) میں اس کی تفصیل فرمائی ہے۔ اب یہاں بھی متقی کی کچھ صفتیں بیان کرتا ہے۔ اول تو یہ کہ وہ دُعا مانگتے رہتے ہیں۔ اپنی کمزوریوں کی حفاظت خدا سے چاہتے ہیں۔ استغفار تمام انبیاء کا اجماعی مسئلہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ میں ستر دفعہ استغفار کرتا ہوں ۔ پس تم ان سے بڑھ کر نہیں ہو ، کہ استغفار سے مستغنی نہ ہو۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۱ مؤرخہ ۲۷ مئی ۱۹۰۹ ء صفحه ۵۵) الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا ۔ مومن کے چھ کام - ا۔ دُعا ٢- صَبْرٌ عَنِ الْمَعْصِيَتِ وَعَلَى الطاعة ۳۔ راستبازی ۴- عبادت گزار ۵۔ کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرے ۶ ۔ استغفار تشحید الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۴۵) وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ۔ نار الحرب ۔ نار جہنم ، دونوں سے لڑائیوں کی ابتدا بھی نار سے ہوتی ہے اور انتہاء بھی۔ پہلے غضب اُٹھتا ہے۔ وہ بھی آگ ہے۔ پھر لوگوں کو ساتھ ملانے کے لئے مہمان نوازی کرتے ہیں۔ اس میں بھی آگ ہے۔ پھر توپ ، بندوق، تار پیڈو۔ یہ تو سب نے دیکھی۔ پس اسی طرح انجام شریر کا نار جہنم ہے۔ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۱ مؤرخہ ۲۷ مئی ۱۹۰۹ء صفحه ۵۵) کے مانتے ہیں بے دیکھے یا تنہائی میں اور ٹھیک نماز پڑھا کرتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے کچھ دیا کرتے ہیں۔ ۲۔ نیکی یہی نہیں۔