حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 218
حقائق الفرقان ۲۱۸ سُورَةُ النِّسَاء ملتا۔ پہلے بعض لوگوں نے فیصلہ کیا تھا کہ متی کی انجیل پرانی انجیل ہے۔ لیکن اب اس کی مخالفت ہوئی ہے۔ توریت میں بھی جھگڑا ہے کہ آیا وحی ہے یا نہیں؟ لیکن ادھر اسلام میں دیکھو کہ ہر صدی میں نیا قرآن سنایا جاتا ہے۔ اور جو مجد دآتا ہے وہ قرآن ہی کو پیش کرتا ہے اور باوجود اس قدر زمانہ گزرنے کے قرآنی مذہب میں کوئی اختلاف نہیں ہوا۔ بعضوں کا یہ خیال ہے کہ پچانش برس کے بعد مجد دآتا ہے مگر میر امذہب یہ ہے کہ ہر وقت ایک قوم خادم قرآن خادم حق اور صدق ضرور موجود رہتی ہے۔ اس تمام (بات) کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کا ابتداء اور انتہاء ایک ہی طرز پر ہے۔ جاہلوں اور عالموں سے یہ ایک نئی آواز سے بولتا ہے۔ بڑے بڑے محقق با وجود بڑی بڑی کوشش کے قرآن کے برخلاف کوئی بات ثابت نہیں کر سکے اور یہ کہ قرآن محفوظ ہے۔ اس کا مذہب محفوظ ہے۔ اس کے اصل میں کوئی اختلاف نہیں ہوا۔ پنجم ایک اور بات ہے وہ بھی اختلاف میں نہیں آ سکتی ۔ قرآن نے جو پیشگوئیاں کی تھیں کہ محمد صلعم کے دشمن ہلاک ہوں گے اور مومن فتح یاب ہوں گے اس میں بھی کوئی اختلاف نہیں ہوا۔ جیسے پیشگوئیاں کی گئی تھیں ویسی پوری ہوئیں ۔ رسول اللہ صلعم لڑائی کے وقت اپنی بیویوں اور لڑکیوں کو بھی ساتھ لے جاتے تھے لیکن کوئی بھی کسی وقت ان کو پکڑ نہ سکا۔ اور رسول اللہ صلعم نے اپنے دشمنوں کو غلام بنایا ۔ پھر آزاد بھی کیا۔ بعض لوگ آنحضرت صلعم کے تلوار پکڑنے پر اعتراض کرتے ہیں ۔ یہ انکی بڑی بیوقوفی ہے۔ ہم پوچھتے ہیں کہ کیا آنحضرت صلعم کے بالمقابل عرب کے پاس تلوار نہ تھی۔ اعتراض تو تب ہوتا کہ ان کے پاس تلوار نہ ہوتی اور اہل اسلام پھر ان پر تلوار چلاتے ۔ جب مقابلہ پر بھی تلوار ہے تو پھر اعتراض کس بات کا ؟ علاوہ ازیں مسلمان تو قانون کے پابند تھے ان کو حکم تھا کہ عورتیں اور بچے اور بوڑھے قتل نہ کئے جائیں۔ پھلدار درخت نہ جلائے جاویں لیکن مخالف تو کسی ایسے قانون کے پابند نہ تھے۔ آنحضرت البدر جلد ۲ نمبر ۲۱ مورخه ۱۲ رجون ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۶۵) صلعم کا لشکر محدود تھا اور عرب بے شمار مقابلہ پر تھے۔ اب بھی اس کی نظیر موجود ہے