حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 217 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 217

حقائق الفرقان ۲۱۷ سُورَةُ النِّسَاء صرف رگڑ کا نتیجہ ہے۔ اس سے یہ بھی ایک نتیجہ نکلتا ہے کہ انسان کی تحقیقات محدود ہے اور جس قدر ایجادات یا معلومات آج تک ہوئی ہیں یا آئندہ ہوں وہ ہمیشہ اتفاقی ہوا کرتی ہیں اور جب ایک بات ہو جاتی ہے تو پیچھے سے انسان اس کے لئے وجوہات گھڑ لیتا ہے ۔ جن لوگوں نے علم سائنس اور طبیعات وغیرہ کے بڑے بڑے مسائل حل کئے ہیں ۔ وہ خود اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ یہ سب مسائل اتفاقی طور پر ہی حل ہوئے ہیں۔ خدا تعالیٰ کا فرمانا بالکل سچ ہے ان مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنَا خَزَايِنُهُ وَمَا نُنَزِّلَةَ إِلَّا بِقَدَرٍ مَعْلُومٍ (الحجر: ۲۲) جب اللہ چاہتا ہے تو کوئی بات یا مسئلہ کسی کو معلوم ہو جاتا ہے۔ غرضکہ قرآن نے ایسا اُسلوب بیان کا اختیار کیا ہے کہ ان نظاروں میں بھی اس کا اختلاف کہیں نہیں ہوتا۔ کوئی تحقیقات کسی قسم کی کیوں نہ ہو۔ آج تک قرآن کے خلاف ثابت نہیں ہوئے ۔ جس قدر نئی تحقیقات والے ہیں ۔ وہ تمام کلام اللہ کے دشمن ہیں ۔ ہر ایک اپنے اپنے رنگ میں قرآن پر حملہ کرنا چاہتا ہے۔ یورپ کے تاریخ دان ۔ نجومی ۔ اسٹرانومر۔ سائنٹسٹ ۔ ڈاکٹر وغیرہ ہر عالم اپنے علم کے رو سے قرآن کی مخالفت پر آمادہ ہے لیکن ان میں سے کامیابی کسی کو نہیں ہوتی اور قرآن کسی سچی بات سے بھی کہیں مخالفت نہیں کرتا۔ اسی لئے میں ہمیشہ نئی تحقیقات کا متلاشی رہتا ہوں۔ ہر ایک نئی ایجاد اور کتاب کو دیکھتا ہوں لیکن آج تک مجھے ثابت نہیں ہوا کہ قرآن کی تکذیب کسی طریق سے بھی ہوئی ہو۔ پھر میرے جیسے آدمی کو تو بہت سے مشکلات کا سامنا ہے۔ کیونکہ میں قرآن میں ناسخ منسوخ کا قائل نہیں ہوں ۔ لغت عرب سے باہر نہیں جاتا۔ حدیثوں کو مانتا ہوں۔ باوجود اس کے میں نے کسی سچی بات کو قرآن سے باہر نہیں دیکھا۔ چہارم وجہ اختلاف کی یہ ہوا کرتی ہے کہ جب مذہب پر کچھ زمانہ گزر جاتا ہے تو مذہب والے اپنے اصلی مذہب سے دور جا پڑتے ہیں اور اصل مذہب کا پتہ ملنا مشکل ہو جاتا ہے۔ جیسے اس وقت عیسائی مذہب کے بڑے بڑے عالم حیران ہیں کہ مسیح کی اصل کلام کدھر گئی اور اس کا کچھ پتہ نہیں لے سب چیزوں کے ہمارے ہی پاس خزانے ہیں اور ہم ان کو اتارتے رہتے ہیں مقرر اندازے کے موافق ۔