حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 216
حقائق الفرقان ۲۱۶ سُورَةُ النِّسَاء تھے تو ان میں سے مجھے چند ایک بڑے بڑے اختلاف یہ معلوم ہوئے ہیں ۔ اوّل ۔ انسان جب بات کرنے لگتا ہے تو اس کے مخاطب مختلف قسم کے لوگ ہوا کرتے ہیں ۔ کبھی جاہل ، کبھی عالم کبھی نادان ، کبھی کم سمجھ ، کبھی زکی الطبع ، تو ایسے موقع پر ایک سپیکر یا خطیب کو ناظرین کی طرز اور لیاقت کا خیال کر کے ان کے فہم اور عقل کے مطابق بات کرنی پڑتی ہے اور مختلف موقعوں پر اسے مختلف کلام کرنے کا اتفاق پڑتا ہے تو اکثر اوقات دو مختلف موقعوں اور مجلسوں کی باتوں میں جو وہ کرتا ہے، بڑا بڑا اختلاف ہو جایا کرتا ہے لیکن باوجود اس کے کہ قرآن کو ہر ایک قسم کے مذاق کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے مگر اس میں یہ اختلاف بالکل ممکن ہی نہیں ہے۔ قرآن جیسے مکہ معظمہ کے جاہلوں کے لئے ہے ویسے ہی مدینہ طیبہ کے بڑے بڑے عالم اور فقیہ یہودیوں کے لئے بھی ہے۔ دوم ۔ زمانہ کی تعداد سے بھی آدمی کے بیان پر اثر ہوتا ہے۔ مثلاً اگر ایک لیکچرار متواتر تئیس برس تک لیکچر دیتار ہے۔ تو اس کے پہلے اور پچھلے لیکچروں میں ضرور اختلاف ہو گا لیکن قرآن اس قسم کے اختلاف سے بھی بری ہے۔ اس کا طر ز بیان شروع سے لے کر آخر تک ایک ہی ہے۔ سوم ۔ ایک وقت میں جب انسان لکھتا ہے یا کچھ تقریر کرتا ہے تو جن قدرت کے ارد گرد کے نظاروں کا اُسے محدود علم ہوتا ہے۔ انہی کے مطابق وہ بیان کرتا ہے اور اپنے استدلال میں انہی کے نظائر لاتا ہے۔ لیکن چند دنوں کے بعد قدرت کے نظارے جب اور رنگ دکھاتے ہیں اور سابقہ تجارب جھوٹے اور کمزور ثابت ہوتے ہیں تو اسے اپنے خیالات کی تبدیلی کرنی پڑتی ہے۔ مثلاً اس سے پیشتر سب یہ مانتے تھے کہ ہوا اپنا بوجھ اشیاء پر ڈالتی ہے اور اب ایک کتاب لکھی گئی ہے کہ ہوا اپنا کوئی بوجھ ھے کہ اپنا پرڈالتی ہے اور ہے نہیں ڈالتی۔ اور یہ مسئلہ سابقہ علم طبیعات کی تحقیقات کے بالکل برخلاف ہے۔ البدر جلد ۲ نمبر ۲۰ مورخه ۵ رجون ۱۹۰۳ ء صفحہ ۱۵۷) علیٰ ہذا القیاس پہلے زمانہ میں آگ کو ایک عنصر کہتے تھے ۔ مگر اب کہا جاتا ہے کہ یہ آگ