حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 211
حقائق الفرقان ۲۱۱ سُورَةُ النِّسَاء تفسير مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ الله حضرت نبی کریم تمام فضائل انسانی کے خاتم ہیں۔ زمانہ کے اعتبار سے بھی خاتم نہیں کہ آپ کی نبوت کا دامن قیامت تک پھیلا ہے۔ دنیا میں مذاہب کے تین حصے ہیں۔ عبرانیوں کا مذہب۔ ایرانیوں کا مذہب۔ تیسرا مشرک۔ جن کے پاس کوئی کتاب نہیں نبی کریم اور ان کے پیروؤں کے ہاتھوں پر تینوں کے صدر مقام فتح ہوئے۔ مکہ معظمہ پر کسی نے فتح نہ پائی تھی۔ حتی کہ سکندر ایسا فاتح بھی محروم رہا۔ میرا مذہب ہے کہ آپ خاتم کمالات انسانی ہیں ۔ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمُ (المائدۃ: ۴) دنیا میں تمام مذاہب کی کتا بیں کسی میں دعوی کے ساتھ دلیل نہیں ۔ پس خاتم الکتب بھی انہی کی کتاب ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۰ مؤرخہ ۲۹ جولائی ۱۹۰۹ ء صفحہ ۷۸) جس نے رسول کا کہا مانا اس نے بے شک اللہ تعالیٰ کا ہی کہا مانا اور جس نے اطاعت سے منہ پھیرا تو ہم نے تجھ کو ان پر پاسبان بنا کر نہیں بھیجا۔ یہ آج کل ایک مسئلہ ہے جو کہ لوگوں کی جہالت اور شوخی سے پیدا ہو گیا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ حدیثوں کے ماننے اور ان پر عملدرآمد کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب اس آیت میں مادیا ہے کہ رسول کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے۔ دیکھو یہ نہیں کہا کہ مَنْ يُطِعِ اللَّهَ فَقَدْ اطَاعَ الرَّسُولَ بلکہ کہا ہے مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ الله اس کا باعث یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم تو ماننا ہی تھا اگر انکار ہوتا تو رسول کے حکم کا ہونا تھا اور ممکن تھا کہ اگر مَنْ يُطِعِ اللَّهَ فَقَدْ أَطَاعَ الرَّسُولَ لکھا ہوتا تو لوگ رسول اور اس کے احکام کی مطلق پرواہ ہی نہ کرتے۔ جیسے کہ اب اس وقت بعض لوگوں کا خیال ہو گیا ہے اسی واسطے اللہ تعالیٰ حکیم علیم اور خبیر نے رسول کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا ہے۔ جو لوگ احادیث کے منکر ہیں ان کو چاہیے کہ اس آیت شریف کے بالمقابل ایک اس مضمون کی آیت قرآن شریف میں سے پیش کریں جس میں اللہ تعالیٰ نے رسول کی اتباع سے بالکل منع کیا اے آج میں نے کامل کر دیا تمہارے لئے دین۔