حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 207 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 207

حقائق الفرقان ۲۰۷ سُورَةُ النِّسَاء اور (جو) تجھ کو کچھ برائی پہنچے وہ تیرے ہی نفس کی طرف سے ہے۔ اور ہم نے تجھ کو رسول بنا کر بھیجا لوگوں کے لئے اور اس بات پر اللہ ہی کی گواہی بس ہے۔ تفسیر اللہ جل شانہ محض فضل سے کسی وقت صبر کا حکم دیتا ہے کسی وقت بدلہ لینے کا ۔صبر کے دن مقابلہ کے دن نہیں ہوتے ۔ ان اوقات کو انبیاء خوب پہچانتے ہیں یہ انبیاء کے ناشناس لوگوں کی باتیں ہیں کہ جب تک مکہ میں تھوڑے آدمی تھے ۔ صبر کا حکم تھا ۔ قلت و کثرت مومن کے لئے کچھ بات نہیں ۔ انبیاء تو جب اللہ حکم دیتا ہے صبر کرتے ہیں۔ جب مقابلہ کا حکم دیتا ہے۔ مقابلہ ۔ وہ نہ ہتھیاروں کی پرواہ کرتے ہیں نہ آدمیوں کی۔ کیا موسیٰ اور نوح علیهما السلام نے تلوار سے کام لیا تھا ؟ دیکھا وہ پانی جو مخالف کے غرق کا موجب ہوا ۔ آپ کی نجات کا ذریعہ بنا۔ پھر دیکھو یوم حُنَيْنِ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ (التوبة:۲۵) میں کثرت کو عجب کا موجب ٹھہرایا ہے۔ معلوم ہوتا ہے احمق مقابلہ صرف تلوار کا سمجھتے ہیں جبھی تو جتھے کے منتظر ہوتے ہیں۔ أَيْنَ مَا تَكُونُوا يُدْرِكُكُمُ الْمَوْتُ - بعض لوگ بندوں سے ایسے ڈرتے ہیں۔ جیسے خدا۔ ے خدا سے ڈرنا چاہیے۔ فرماتا ہے بندوں سے کیا ڈر۔ جہاں آدمی ہو۔ جس حال میں ہو۔ موت تو اپنے وقت اپنا کام کر کے رہے گی ہمارے طبیب استاد تھے۔ ایک پہلوان کو دیکھا۔ ہیضہ ہے۔ مگر اسے کہا۔ تمہیں بد ہضمی ہے۔ تا کہ دل شکستہ نہ ہو اس نے کہا بد ہضمی کی کیا مجال ۔ ایک مگدر ا ٹھا یا کہ اسے پھیر کر کھانا ہضم کرے۔ پھیرتے ہی راہی عدم ہوا۔ بزنج۔ چونکہ برج گول ہوتا ہے۔ اسی لئے اس کو برج کہتے ہیں ورنہ برج کے معنے ستارے کے ہیں آتش بازی کے غباروں کو اس لئے برج کہتے ہیں کہ وہ اوپر جا کر ستاروں کی مانند ہو جاتے ہیں۔ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللهِ - بہت لوگوں نے اعتراض کیا ہے کہ دوسری جگہ مَا أَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَفْسِكَ فرمایا ہے ہے مگر مگر انہوں نے نے سمجھا سجھانہیں نہیں ۔ جزا جزا ومزاج وسزا جو انسانی اعمال عمل کی کی پاداش ہے۔ ہے۔ وہ وہ سب سب اللہ اے حسنین کے دن جب تم کو تعجب میں ڈال دیا تھا تمہاری کثرت نے۔