حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 206
حقائق الفرقان ۲۰۶ سُورَةُ النِّسَاء دے اس کو تو پھر خدا اور رسول کے کلام سے بھی فائدہ نہیں ہو سکتا۔ صرف یہ کہتے رہنا کہ نیکی کرو۔ نیکی کرو اور بدی کو چھوڑ دو۔ یہ کوئی وعظ نہیں ہے۔ اور نہ اس سے سننے والے کو فائدہ ہوتا ہے فائدہ تو جب ہی ہوگا ۔ جب نیکی اور بدی کا علم ہوگا اور کسی بدی کے ارتکاب سے وہ اس وقت بیچ سکے گا جب وہ جانتا ہوگا کہ یہ بدی ہے۔ پھر اس قسم کے وعظ تو آدمی گرجوں اور ٹھا کر دواروں میں بھی بیٹھ کر کر سکتا ہے جس سے بھلے اور برے دونوں قسم کے آدمی خوش ہو جایا کرتے ہیں اور کوئی مخالفت نہیں ہوتی ۔ مخالفت اسی وقت شروع ہوتی ہے جب کھول کھول کر بیان کیا جاوے۔ اگر انبیاءعلیہم السلام ان باتوں کو مفصل کھول کر بیان نہ کرتے تو کوئی ان کا مخالف بھی نہ ہوتا۔ آنحضرت صلعم کی مخالفت اسی واسطے ہوئی کہ انہوں نے مکہ والوں کے عیوب کھول کر ان پر ظاہر کر دیئے ۔ اگر عیوب کو بیان نہ کریں تو پھر اور کیا بیان کر سکتے ہیں۔ قوم لوط کی بداخلاقی اور ان کی تباہی کی نسبت اگر کچھ بیان کرنا ہو تو کیا اصل واقعہ کو چھوڑ کر ہم کہہ دیا کریں کہ انہوں نے کوئی بدی کی تھی اور ہلاک ہوئے۔ انجام ہمیشہ متقی کا ہی اچھا ہوا کرتا ہے۔ اور ہر ایک خیر کا وارث بھی متقی ہی ہوا کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کسی کی حق تلفی نہیں کیا کرتا۔ البدر جلد ۲ نمبر ۱۸ مورخه ۲۲ مئی ۱۹۰۳ صفحه (۱۴۱) ۷۹، ۸۰- أَيْنَ مَا تَكُونُوا يُدْرِكُكُمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِي بُرُوجٍ مُشَيَّدَةٍ وَ إِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا هُذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَإِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَقُولُوا هُذِهِ مِنْ عِنْدِكَ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللهِ فَمَالِ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًا - مَا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللَّهِ وَ مَا أَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَفْسِكَ وَأَرْسَلْنَكَ لِلنَّاسِ رَسُولًا وَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا - ترجمہ ۔ تم کہیں بھی ہو تم کو موت آ پکڑے گی گو کہ تم مضبوط گنبدوں میں ہو۔ اگر اُن کو کوئی فائدہ پہنچ جائے تو وہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ اللہ ہی کی طرف سے ہے اور اگر ان کو کوئی نقصان پہنچ جائے تو وہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ تیری ہی طرف سے ہے۔ تم کہو کہ سکھ دکھ سب اللہ ہی کی طرف سے ہے تو اس قوم کو کیا ہو گیا ہے کہ بات کی سمجھ کے قریب بھی نہیں پھٹکتی ۔ تجھ کو جو کچھ بھلائی پہنچی وہ تو اللہ کی طرف سے ہے