حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 201
حقائق الفرقان ۲۰۱ سُورَةُ النِّسَاء ۶۷ - وَ لَوْ أَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ أَنِ اقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ أَوِ اخْرُجُوا مِنْ دِيَارِكُمْ مَّا فَعَلُوهُ إِلَّا قَلِيلٌ مِنْهُمْ وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُوا مَا يُوعَظُونَ بِهِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَ أَشَدَّ تَثْبِيتًا ۔ ترجمہ ۔ اور اگر اُن کو ہم تحریری حکم دے دیتے کہ تم اپنی جانوں کو ہلاک کر ڈالو یا تم اپنے وطن یا گھر بار سے چلے جاؤ تو وہ ایسا کبھی نہ کرتے مگر ہاں تھوڑے سے ۔ ان میں کے اگر وہ اتنا بھی کریں جس کی ان کو نصیحت کی جاتی ہے تو اُن کے حق میں یہ بھی بہت ہے اس وجہ سے مضبوطی کے ساتھ دین میں جمے رہیں گے۔ تفسیر۔ اور اگر یہی کریں جو اُن کو نصیحت ہوتی ہے تو اُن کے حق میں بہتر ہو اور زیادہ ثابت ہوں دین میں ۔ اور ایسے میں ہم دیں ان کو اپنے پاس سے بڑا ثواب اور چلاویں ان کو سیدھی راہ ۔ ( فصل الخطاب المقدمه اہل الکتاب حصہ دوم صفحه ۳۲۵ حاشیه ) وَ لَوْ أَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْهِمُ - اللہ تعالیٰ جان بھی لینا چاہے۔ وطن بھی۔ مَّا فَعَلُوهُ إِلَّا قَلِيلٌ مِنْهُم - بہت کم لوگ یہ کام کر سکتے ہیں میں یہاں قادیان میں صرف ایک دن کے لئے آیا اور ایک بڑی عمارت بنتی چھوڑ آیا۔ حضرت صاحب نے مجھ سے فرمایا۔ اب تو آپ فارغ ہیں میں نے عرض کیا ۔ ارشاد فرمایا۔ آپ رہیں ! میں سمجھا دو چار روز کے لئے فرماتے ہیں ایک ہفتہ خاموش رہا۔ فرمایا۔ آپ تنہا ہیں۔ ایک بیوی منگوالیں ۔ تب میں سمجھا کہ زیادہ دنوں رہنا پڑے گا۔ تعمیر کا کام بند کرا دیا۔ چند روز بعد فرمایا کتابوں کا آپ کو شوق ہے۔ یہیں منگوا لیجئے تعمیل کی گئی۔ فرمایا۔ اچھا دوسری بیوی بھی یہیں منگوالیں۔ پھر مولوی عبدالکریم صاحب سے ایک دن ذکر کیا کہ مجھے الہام ہوا ہے۔ لَا تَصُبُّونَ إِلَى الْوَطَنِ فِيهِ تُهَانُ وَ تُمْتَحَن له ،، یہ الہام نور الدین کے متعلق معلوم ہوتا ہے۔ مجھ سے فرمایا۔ وطن کا خیال چھوڑ دو۔ چنانچہ میں نے ے تو وطن کی طرف مائل نہ ہو۔ اس میں تیری تو ہین کی جائے گی اور تو مشقت میں ڈالا جائے گا۔