حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 200
حقائق الفرقان ۲۰۰ سُورَةُ النِّسَاء تھی ۔ اُس نے کہا۔ میں تو حضرت عمرؓ کا فیصلہ مانوں گا۔ چنانچہ وہاں گئے ۔ حضرت عمرؓ نے کہا۔ میں تمہاری گردن اڑاتا ہوں کہ تم نے نبی کے فیصلہ سے نفرت کی ۔ ( ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۰ مورخه ۲۹ جولائی ۱۹۰۹ ء صفحہ ۷۷ ) ١٣ - فَكَيْفَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُّصِيبَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ثُمَّ جَاءُوكَ يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ إِنْ أَرَدْنَا إِلَّا إِحْسَانًا وَ تَوْفِيقًا - ترجمہ۔ پھر کیا ہو گا جب اُن پر آپڑے گی کوئی مصیبت اُن کی بداعمالیوں کی وجہ سے جو وہ کر چکے ہیں پھر تیرے پاس وہ اللہ کی قسمیں کھاتے آئیں گے کہ ہماری تو کچھ غرض نہیں تھی مگر نیکی اور موافقت ہی کرنا ۔ تفسیر - فَكَيْفَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ۔ پھر وہ کیسا کہ جب ان کو پہنچے مصیبت اپنے ہاتھوں کے کئے سے۔ ( فصل الخطاب لمقدمه اہل الکتاب حصہ دوم صفحه ۳۱۲) ۶۵ - وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ وَ لَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا انْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رحِيمًا - ترجمہ۔ اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اسی واسطے کہ ان کا کہا مانا جاوے اللہ کے حکم سے اور کاش یہ لوگ ( منافق یا منکر ) جب انہوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا تھا تیرے پاس آ جاتے پھر اللہ سے مغفرت طلب کرتے اور رسول بھی اُن کے لئے معافی چاہتا تو وہ ضرور پاتے اللہ کو رجوع برحمت فرمانے والا اور سچی کوشش کا بدلہ دینے والا۔ تفسیر اور ان لوگوں نے جس وقت اپنا برا کیا تھا اگر آتے تیرے پاس پھر اللہ سے بخشوا تے اور بخشوا تا ان کو رسول تو اللہ کو پاتے معاف کر نیوالا مہربان۔ ( فصل الخطاب المقد مہ اہل الکتاب حصہ دوم صفحه ۲۹۶ حاشیه )