حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 199
حقائق الفرقان ۱۹۹ سُورَةُ النِّسَاء ٦١ - أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَنْ يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَ قَدْ أَمِرُوا أَنْ يَكْفُرُوا بِهِ وَ يُرِيدُ الشَّيْطَنُ أَنْ يُضِلَّهُمْ ضَلَلًا بَعِيدًا - ترجمہ۔ کیا تجھے معلوم نہیں ہوا اُن لوگوں کا حال جو زعم تو یہ کرتے ہیں کہ وہ مان چکے اُس کلام کو جو تجھ پر اترا اور جو تجھ سے پہلے اترا اور چاہتے یہ ہیں کہ مقدمہ لے جائیں حد سے باہر نکلنے والے شیطان کی طرف حالانکہ وہ لوگ حکم دئے گئے ہیں کہ اُس کا کفر کریں اور انکار کریں اور الشیطان چاہتا ہے کہ اُن کو راہ سے بھٹکا کر دور دراز گمراہی میں ڈال دے۔ تفسير - يُرِيدُ الشَّيْطَنُ أَنْ يُضِلَّهُمُ ۔ چاہتا ہے شیطان کہ اُن کو بہکائے ۔ ( فصل الخطاب لمقدمه اہل الکتاب حصہ دوم صفحه ۳۱۵) ۶۲ - وَ إِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَى مَا اَنْزَلَ اللَّهُ وَ إِلَى الرَّسُولِ رَأَيْتَ الْمُنْفِقِينَ يَصُدُّونَ عَنْكَ صُدُودًا - ترجمہ۔ اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اس حکم کی طرف جو اللہ نے اتارا ہے اور رسول کی جانب تم منافقوں کو دیکھتے ہو کہ وہ بہت رکھتے ہیں تجھ سے۔ تفسیر - تَعَالَوْا إِلى مَا انْزَلَ اللهُ - کوئی مسلمان ایسا خیال نہیں کرتا کہ ہماری شریعت میں جھوٹ ہے۔ لیکن عملدرآمد اس کے خلاف ہے۔ جو کچھ مسلمان کر رہے ہیں وہ شریعت اسلامی کے خلاف ہے۔ لڑکیوں کو ورثہ تک نہیں دیتے ۔ اپنے مقدمات کو اللہ و رسول کے فیصلہ کے مطابق کرا کے خوش نہیں ہوتے شیعہ سے ہم نے بارہا کہا ہے ۔ آؤ ۔ قرآن شریف سے فیصلہ کریں مگر وہ کبھی نہیں مانتے ۔ رَأَيْتَ الْمُنْفِقِينَ يَصُدُّونَ عَنْكَ صُدُودًا - ایک کہانی تو مشہور ہے۔ کسی یہودی کا کسی ۔ منافق سے جھگڑا ہوا۔ وہ دونوں بارگاہ نبوی میں گئے۔ نبی کریم نے یہودی کو ڈگری دی۔ جو منافق کے مضر