حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 191 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 191

حقائق الفرقان ۱۹۱ سُورَةُ النِّسَاء دوسری قسم گناہوں کی وہ کبائر اور بڑے بڑے گناہ جو شرک کے نیچے ہیں اور صغائر یا مبادی کبائر سے اوپر ۔ اور یہ بالکل ظاہر ہے کہ ہر ایک کبیرہ اور بڑے گناہ کی ابتداء میں چھوٹے چھوٹے گناہ جو اس کبیرہ سے کم ہیں ہوتے ہیں۔ مثلاً جو شخص زنا کا مرتکب ہوا ضرور ہے کہ ارتکاب زنا سے پہلے وہ اُس نظر بازی کا مرتکب ہو جس سے زنا کے ارتکاب تک نوبت پہنچی یا ابتدا وہ باتیں سنیں جن کے باعث اُس بدکاری کے ارتکاب تک اُس زنا کنندہ کی نوبت پہنچی ۔ ایسے ہی ان باتوں کا ارتکاب جن کے وسیلے سے اس کو وہ شخص ملا جس سے زانی نے زنا کیا اور بالکل ظاہر ہے کہ ان ابتدائی کارروائیوں کی برائی زنا کی برائی سے ضرور کمی پر ہے۔ ایسے کبائر اور بڑے گناہوں کی نسبت قرآن کریم فرماتا ہے۔ إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَابِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيَأْتِكُمْ عَنْكُمْ سَيَاتِكُمْ (النساء : ٣٢) کیا معنی ۔ جن بڑے بڑے گناہوں کے ارتکاب سے تم لوگ منع کئے گئے ۔ اگر ان بڑے گناہوں سے بچ رہو تو ان کے مبادی اور ان کے حصول کی ابتدائی کارروائی صرف ان بڑے گناہوں سے بچ رہنے کے باعث معاف ہو سکتی ہے۔ مثلاً کسی شخص نے کسی ایسی عورت سے جماع کرنا چاہا جو اس کے نکاح میں نہیں اور اس عورت کے بلانے پر کسی کو ترغیب دی یا کچھ مال خرچ کیا اور اُسے خالی مکان میں لایا اور اُسے دیکھا بلکہ اس کا بوسہ بھی لے لیا۔ لیکن جب وہ دونوں برضا و رغبت بُرائی کے مرتکب ہونے لگے اور کوئی چیز روک اور بدکاری کی مانع وہاں نہ رہی ۔ اور اس بد کاروائی کا آخری بد نتیجہ بھی ظاہر نہ ہوا تھا کہ اس زانی کے ایمان نے آ کر اسے زنا سے روک دیا ۔ اب یہ شخص با ایں کہ مال خرچ کر چکا ہے یا ثانی کی رضا مندی پاچکا ۔ صرف ایمان کے باعث ہاں صرف ایمان ہی کے باعث اور خدا کے خوف سے باہمہ وسعت و طاقت اس بڑی برائی کے ارتکاب سے ہٹ گیا۔ اور اس کا مرتکب نہ ہوا۔ تو صرف اسی اجتناب سے اس کی ابتدائی کارروائیاں جو حقیقت میں مبادی گناہ اور گناہ کی محرک تھیں معاف ہو لے اگر تم بچتے رہو گے بری چیزوں سے جو تم کو منع ہوئیں تو ہم اتار دیں گے تم سے تقصیریں تمہاری۔ ( ناشر )