حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 180 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 180

حقائق الفرقان ۱۸۰ سُورَةُ النِّسَاء گرم چیز ضرور گرمی کرے گی۔ الا اگر اس کے ساتھ بہت سی سرد چیز کھائی گئی تو ظاہر ہے کہ اس سرد کی سردی اُس گرم کی گرمی کو باطل کر دے گی اور دوسری قسم کی نجات اُن نیک اعمال کی کثرت سے ہوگی جو سچے ایمان کا ثمرہ ہیں ۔ خدا کے فضل و کرم سے حاصل ہوگی ۔ ( فصل الخطاب لمقدمه اہل الکتاب حصہ دوم صفحه ۲۹۵) ہر ایک بدی کی ایک ابتدا ہوتی ہے ایک اوسط ہوتا ہے اور ایک انتہا ہوتا ہے۔ انتہا کو کبیرہ کہتے ہیں۔ جو شخص ابتدا اور اوسط کا مرتکب ہو جاوے اور انتہا سے بچ جائے اس کا گناہ بخشا جاتا ہے۔ تَجْتَنِبُوا كَبَابِرَ (النساء : ۳۲) میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔ مثلاً ایک شخص نے کسی کا مال دیکھا اس کے دل میں لالچ پیدا ہوا کہ اس کا مال چوری کروں ۔ یہ چوری کا ابتدا ہے۔ اس نے اس کے گھر میں داخل ہونے کے وسائل پیدا کیے اور داخل ہوا ، یہ اوسط ہے۔ اب باقی رہا مال کو لے کر چلے آنا، یہ انتہا ہے اور اس کا نام کبیرہ ہے۔ اگر اس وقت اس کے دل میں خشیت اللہ پیدا ہو اور وہ چوری کا مال نہ لے اور اپنے پہلے خیال اور دخل پر پشیمان ہو کر چلا آئے تو اس کبیرہ کا ارتکاب نہ کرنے کے سبب اس گناہ کا ابتدا اور اوسط اسے معاف ہو جائے گا۔ قرآن شریف نے کبائر کی کوئی تعداد مقرر نہیں فرمائی ہر گناہ کی آخری حالت کا نام کبیرہ ہے۔ ( بدر جلد ۱۳ نمبر ۱ مورخه ۶ / مارچ ۱۹۱۳ ء صفحه (۳) وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ ممَّا اكْتَسَبُوا وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا اكْتَسَبْنَ وَ سُلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا ۔ ترجمہ ۔ اور تم ہوس اور جھوٹی تمنا نہ کرو اس کی کہ اللہ نے دی تم میں ایک کو دوسرے پر فضیلت ۔ مردوں کے لئے اُن کا حصہ ہے جو انہوں نے کمایا اور عورتوں کے لئے ان کا حصہ ہے جو انہوں نے کمایا۔ اور اللہ کا فضل ما نگتے رہو اللہ سے ۔ بے شک اللہ ہر ایک چیز کا بڑا جاننے والا ہے۔ تفسیر - ولا تتمنوا ۔ ایسی آرزوئیں جن کا نتیجہ کچھ بھی نہ ہو۔ نہ کرو۔ تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۴۸) لے تم بڑے گناہوں سے ایک جانب رہوگے۔ (ناشر)