حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 172
حقائق الفرقان ۱۷۲ سُورَةُ النِّسَاء حد بھی چاہیے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے قرآن کریم کے ذریعے بتادی۔ أَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ - نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے فرمایا ہے کہ خالہ و بھانجی، پھوپھی اور بھتیجی کو بھی جمع نہ کرو۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۹ مؤرخہ ۲۲ جولائی ۱۹۰۹ ء صفحہ ۷۴) ۲۵ - وَ الْمُحْصَنْتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ كِتَبَ اللهِ عَلَيْكُمْ وَ أُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَلِكُمْ أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسْفِحِينَ فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ فَأْتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرْضَيْتُمْ بِهِ مِنْ بَعْدِ الْفَرِيضَةِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا - ترجمہ ۔ (اور حرام ہیں تم پر ) خاوند والی عورتیں مگر وہ جائز ہیں جو تمہاری مملوکہ ہو جائیں یہ اللہ کا تحریری محفوظ حکم ہے تم پر اور ان کے علاوہ سب عورتیں تم پر حلال ہیں اس طرح کہ تم ان کو مہر دو قابو میں لانے والے ہو نہ متعہ اور نیوگ کرنے والے شہوت رانی کے لئے ۔ پھر جن عورتوں سے تم نے فائدہ اٹھا یا مہر ٹھہرا کر تو دے دو ان کو ان کے مہر جو ٹھہرایا تھا اور تم پر کچھ گناہ نہیں اس بات میں کہ جس میں تم آپس میں راضی ہو جاؤ مہر ٹھہرانے کے بعد بے شک اللہ بڑا خبر دار بڑا حکمت والا ہے۔ تفسیر ۔ وَالْمُحْصَنَت ۔ وہ بی بی جو کسی دوسرے کی بیوی ہو۔ گویا وہ ایسی ہے جیسے کوئی قلعہ میں ہوتا ہے۔ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ - جنگی قیدیوں کا تعلق اپنے ملک سے قطع ہو جاتا ہے۔ وہ جنگ ایسا ہی قطع تعلق کرتی ہے۔ جیسے کہ طلاق ۔ پس اس لئے یہ جائز ہیں ۔ غَيْرَ مُسْفِحِينَ - صرف مستی اتارنے کے لئے نہ ہوں۔ فَأْتُوهُنَّ اُجُورَهُنَّ - هندوستان میں لاکھوں کے مہر باندھے جاتے ہیں۔ میرا بھی ایک نکاح ہوا جب مہر حد سے زیادہ بندھنے لگا۔ میں بول پڑا ۔ عورتوں میں شور مچ گیا۔ استاد بھی ناراض ہو گئے کہ دولہا بولتا ہے مگر ہم نے ۵۰۰ سے زیادہ منظور نہ کیا۔