حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 166 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 166

حقائق الفرقان ۱۶۶ سُورَةُ النِّسَاء - ۱۶، ۱۷ ۔ وَالَّتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَائِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ ارْبَعَةً مِنْكُمْ فَإِنْ شَهِدُوا فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ حَتَّى يَتَوَفَّهُنَّ الْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ اللهُ لَهُنَّ سَبِيلًا - وَ الَّذنِ يَأْتِينِهَا مِنْكُمْ فَأْذُوهُمَا ۚ فَإِنْ تَابَا وَ أَصْلَحَا فَاعْرِضُوا عَنْهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِيمًا - ترجمہ۔ اور مسلمانو ! تمہاری عورتوں میں سے جو عورتیں بدکاری کی مرتکب ہوں تو ان ( کی بد فعلی ) پر اپنے لوگوں میں سے چار کی گواہی لوپس اگر گواہ ( اُن کی بدکاری کی ) تصدیق کریں تو ( سزا کے طور پر ) ان (عورتوں) کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ موت اُن کا کام تمام کر دے یا اللہ ان کے لئے کوئی (اور ) راستہ نکالے ۔ اور جو دو شخص تم لوگوں میں سے بدکاری کے مرتکب ہوں تو ان کو مارو پیٹو۔ پھر اگر توبہ کریں اور اپنی حالت کی اصلاح کرلیں تو ان سے (اور زیادہ) تعرض نہ کرو۔ کیونکہ اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ تفسیر - أَوْ يَجْعَلَ اللهُ لَهُنَّ سَبِيلًا ۔ اس سے شاید یہ مدعا ہے کہ نیک ہو جائے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۹ مورخہ ۲۲ جولائی ۱۹۰۹ء صفحہ ۷۴) اس کا مطلب تو صاف تھا کہ شریر عورت کو بے وجہ سزا نہ دی جاوے بلکہ اس کی شرارت پر چار گواہ گواہی دیں کہ یہ عورت شریر ہے تو اس کو قید کر دو ۔ جب تک خدا تعالیٰ کوئی راہ نہ نکالے اور اگر میاں بیوی دونوں شرارت کا ارتکاب کریں تو دونوں کو سزادو اور اگر شرارت کرنے سے باز آ جاویں اور سنوار کر لیں تو ان سے اعراض کر لو۔۔۔۔۔ یہ احکام سلطنت کے متعلق ہیں جن کو سزاؤں کا اختیار ہوتا ہے اور وہی امر فَامْسِكُوهُنَّ کے مخاطب ہیں ۔ اس کے معنی ہیں بند کرو۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام - کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحه ۲۹۵،۲۹۴) ١٨- إِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللهِ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السُّوءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ يَتُوبُونَ مِنْ قَرِيبٍ فَأُولَئِكَ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا - ترجمہ ۔ اللہ تو بہ قبول کرتا ہی ہے (مگر) انہی لوگوں کی جو نادانی سے کوئی بری حرکت کر بیٹھے پھر