حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 165
حقائق الفرقان ۱۶۵ سُورَةُ النِّسَاء دخل نہ دو اور یوں سمجھو کہ ( حصوں کا قرار داد اللہ کا ٹھہرایا ہوا ہے اللہ بے شک (سب کچھ) جانتا ہے اور سب مصلحتوں سے واقف ہے۔ اور جو ( ترکہ) تمہاری بیبیاں چھوڑ مریں اگر اُن کی اولا د نہیں تو اُن کے ترکے میں تمہارا آدھا۔ اور اگر اُن کی اولاد ہے تو اُن کے ترکے میں تمہارا چوتھائی ( مگر ) اُن کی وصیت ( کی تعمیل ) اور ادائے قرض کے بعد، اور تم کچھ ( ترکہ ) چھوڑ مرو اور تمہاری کچھ اولاد نہ ہو تو بیبیوں کا (حصہ چوتھائی ) اور اگر تمہاری اولاد ہو تو تمہارے ترکے میں سے بیبیوں کا آٹھواں ( حصہ اور یہ حصے ) بھی تمہاری وصیت ( کی تعمیل ) اور ( ادائے) قرض کے بعد ( دئے جائیں ) اور اگر کسی مرد یا عورت کی کی میراث میراث : ہو اور راس اس کا کا باپ پ بیٹا بیٹا ( یعنی اصل و فرع ) نہ ہو اور اس کے بھائی یا بہن ہوں ہوں تو تو اُن میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ اور اگر ایک سے زیادہ ہوں تو ایک تہائی میں ( برابر کے ) سب شریک ( یہ حصے بھی ) میت کی وصیت ( کی تعمیل ) اور ( ادائے ) قرض کے بعد ( دیئے جائیں ) بشرطیکہ میت نے (کسی کو) نقصان نہ پہنچانا چاہا ہو ( یہ ) فرمان الہی ہے اور اللہ (سب کچھ) جانتا ( اور لوگوں کی نافرمانیوں پر ) برداشت کرتا ہے۔ تفسیر۔ یہ وہ رکوع ہے جس پر عمل مسلمانوں سے بہت کچھ اُٹھ گیا ہے۔ لڑکیوں کو حصہ نہیں دیا جاتا۔ افَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ تَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ (البقرة : ۸۶) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو وراثت نہیں دیتے ان کے لئے خِزْيٌ فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيا (البقرۃ : ۸۲) ہے۔ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ ۔ تم حکیموں فلاسفروں عقل مندوں کی باتیں مانتے ہو پس علیم خدا کی باتیں بھی مان لو۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۹ مؤرخہ ۲۲ جولائی ۱۹۰۹ صفحه ۷۳، ۷۴) فَوقَ اثْنَتَيْنِ ۔ ترجمہ صحیح یہ ہے کہ دو یا دو سے زیادہ ۔ كللة - جس کا اصل و نسل نہ ہو۔ اخ او اخت ۔ یہ اس بہن بھائی کا حصہ ہے جو ماں کی طرف سے ہے۔ تشحید الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۷ ۴۴) ے کیا تم کتاب کے بعض احکام پر ایمان لاتے ہو اور بعض احکام سے ' ن احکام سے انکار کرتے ہو۔ دنیا کی زندگی میں بھی ذلیل کیا جاوے۔ ( ناشر )