حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 164 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 164

حقائق الفرقان ۱۶۴ سُورَةُ النِّسَاء ۱۳۱۲ - يُوصِيكُمُ اللهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُن نِسَاءَ فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۚ وَ إِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِن لَّمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَةَ أَبَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلْتُ ۚ فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِى بِهَا أَوْ دَيْنٍ آبَاؤُكُمْ وَابْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا وَ لَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَّمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ ۚ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثمنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوْصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَ إِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَالَةَ أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ فَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوحَى بِهَا أَوْ دَيْنِ غَيْرَ مُضَارِ وَصِيَّةً مِّنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ - ترجمہ ۔ ( مسلمانو!) تمہاری اولاد کے حصوں کے بارے میں اللہ تم سے کہہ رکھتا ہے کہ لڑکے کو دولڑکیوں کے برابر حصہ (دیا کرو ) پھر اگر لڑکیاں ( دو یا دو سے زیادہ ہوں تو ترکے میں اُن کا حصہ دو تہائی ہے اور اگر اکیلی ہو تو اس کو آدھا اور میت کے ماں باپ کو (یعنی) دونوں میں ہر ایک کو تر کے کا چھٹا حصہ اس صورت میں کہ میت کی اولاد ہو اور اگر اس کی اولاد نہ ہو اور اس کے وارث ( صرف ) ماں باپ ہوں تو اُس کی ماں کا حصہ ایک تہائی ( باقی باپ کا) پھر اگر ( ماں باپ کے علاوہ) میت کے (ایک سے زیادہ) بھائی ( یا بہنیں ہوں تو ماں کا حصہ چھٹا ( مگر یہ حصے ) میت کی وصیت ( کی تعمیل ) اور ( ادائے ) قرض کے بعد ( دئے جائیں) تم اپنے باپ دادا یعنی اصول ) اور بیٹوں ( پوتوں یعنی فروع ) کو نہیں جان سکتے کہ نفع رسانی کے اعتبار سے اُن میں کون ساتم میں سے زیادہ قریب ہے (پس اپنی رائے کو