حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 163
حقائق الفرقان ۱۶۳ سُورَةُ النِّسَاء بوجه شدت گرمی مختلف حد بلوغ ہیں ۔ چنانچہ بعض ممالک میں بعض وقت ۲۶ یا ۲۷ برس تک پہنچ کر لڑکے یا لڑکیاں بالغ ہوتے ہیں اور بعض ممالک میں دس بارہ چودہ برس ہی میں بالغ ہو جاتے ہیں ۔ غرض اگر قرآن شریف کوئی حد مقرر کر دیتا تو اس وقت جبکہ ساری دنیا نفس واحد کا حکم رکھتی ہے قابل اعتراض ٹھہرتا ہے ۔ سبحان اللہ کیا پاک تعلیم ہے۔ لڑکیاں عموماً حیض کے بعد اور لڑ کے موئے ظہار پیدا ہونے کے بعد بالغ سمجھے جاتے ہیں۔ ا الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱۹ مورخه ۱۴ مارچ ۱۹۰۸ صفحه ۴) فَإِذَا دَفَعْتُمْ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ فَأَشْهِدُوا (النساء : ۷)۔ پھر جب ان یتیموں کے مال ان کے سپرد کرنے لگو۔ تو گواہ ٹھہرالو۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۲۲) ا - إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا - ترجمہ ۔ جو لوگ ناحق یتیموں کے مال خورد برد کرتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں بس انگارے بھرتے ہیں اور عنقریب ( مرے پیچھے ) دوزخ میں پڑیں گے۔ تفسیر - إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا جو لوگ یتیموں کا مال ظلم سے کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ کھاتے ہیں۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ (۲۲)