حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 154
حقائق الفرقان اولد سُورَةُ النِّسَاء قومیت کے خیال کو تقوی کی حد کے اندر لانا چاہیے۔ یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّنْ نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ - جب تم ایک شخص کی اولاد ہو تو پھر کبریائی کس لئے تقوی سے امن پیدا ہوتا ہے اور کبریائی سے فساد۔ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَكُمْ (الحجرات : (۱۴) میں بتایا ہے کہ اللہ کے نزدیک معزز و مکرم صاحب تقوای ہے نہ کہ اعلیٰ ذات والا ۔ وَاتَّقُوا اللهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِہ دوبارہ حکم تقوی کا دیتا ہے کہ اُس اللہ کے متقی بنو جس کے حضور تم دعا کیا کرتے ہو۔ جس کے در پر جا کر مانگنا۔ اُس کے حکم کی خلاف ورزی ٹھیک نہیں۔ وَالْأَرْحَامَ ۔ انبیاء نے عورتوں کے رشتہ کی یہاں تک قدر کی کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے صحابہ کو نصیحت کی کہ مصر کے قبطیوں کا خیال رکھنا ۔ وہ تمہارے رشتہ دار ہیں کیونکہ حضرت اسماعیل کی ماں مصر کی تھی۔ پھر حضرت نبی کریم جب قربانی کرتے تو خدیجہ کی سہیلیوں کے ہاں بھی گوشت بھجواتے ۔ رحموں کا بہت لحاظ رکھو ۔ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۹ مورخہ ۲۲ جولائی ۱۹۰۹ء صفحه ۷۳) خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا ( النساء: ۲) کا لفظ ہے مگر اس مِنْ کے معنے سمجھنے کے لئے قرآن کریم میں جا بجا ہدایت نامے موجود ہیں ۔ غور ور کرو خَلَقَكُمْ مِنْ تُرَابٍ (فاطر : (فاطر : ۱۲) خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ انْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا (الروم: ۲۲)۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام ۔ کمپیوٹرائیز ڈایڈیشن صفحہ ۱۴۳) یہ ایک آیت شریف ہے جس سے ایک سورہ کا ابتداء ہوتا ہے اور ایسے خطبوں کے وقت اس کا پڑھا جانا مسلمانوں میں مروج ہے وہ اس آیت کو ضرور پڑھتے ہیں وجہ یہ ہے کہ ساری سورۃ کی طرف گو یا متوجہ کیا گیا ہے۔ جس میں میاں بیوی کے متعلق حقوق کو بیان کیا گیا ہے اور تفاول کے طور پر اس کی ابتدا کو پڑھتے ہیں تا کہ سعادت مند لوگ ایسے تعلقات پیدا کرنے سے پہلے اور بعد ان امور پر نگاہ کر لیا کریں جو اس سورۃ میں بیان ہوئے ہیں ۔ ۳ لے بے شک تم میں زیادہ عزت دار اللہ کے نزدیک وہی ہے جو بڑا متقی ہو ۔ (ناشر) ہے جس نے تم کو پیدا کیا مٹی سے (یعنی مجموعہ عناصر سے ) سے اس نے پیدا کر دیا تمہارے لئے تمہارے ہی میں سے بیبیوں کو۔ (ناشر)