حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 138
حقائق الفرقان ۱۳۸ سُورَةُ آل عِمْرَان انسان پہلے خود ایک بدی کرتا ہے پھر اس بدی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ شیطان اس شخص کے ساتھ دوستی پیدا کرتا ہے۔ پس یہ تعلق شیطان بَعْضِ مَا كَسَبُوا کا اثر ہے۔ قرآن نے اس مسئلہ کو کئی رنگوں میں بیان کیا ہے۔ شیطان کسی کے پھسلانے کی اس وقت کوشش کرتا ہے جب وہ پہلے کسی بدی کا ارتکاب کرے چنانچہ فرمایا فَلَمَّا زَاغُوا أَزَانَ اللهُ قُلُوبَهُمْ (الصف: 1) دوسری آیت وَ أَنَّهَا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا إِلى رِجْسِهِمْ ) (التوبة: ۱۲۵) ہم نے بعض شخصوں کو دیکھا ہے کہ ایک وقت تھوڑے سے گناہ کا کام بھی کئی پردوں میں چھپ کر کیا ہے پھر یہاں تک بڑھے ہیں کہ عین سر بازار رنڈیوں کے ساتھ شطرنج کھیلتے دکھائی دیتے ہیں یا ٹمٹم پر سوار۔ ایک شخص اس ابتلا میں پڑ گیا۔ اس کی ہدایت کا موجب یہ آیت ہوئی اَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللهِ " (الحدید : ۱۷) برق کی طرح اس کے دل میں اثر کر گئی اور سب منہیات کو چھوڑ دیا۔ انسان جب بدی کرتا ہے اور اس سے باز نہیں آتا تو پھر وہ بدی اس کی نظر میں بدی ہی نہیں رہتی ۔ ایک شخص قرآن شریف میں کُونُوا مَعَ الصَّدِقِينَ (التوبة:119) پڑھ رہا تھا کہ اوپر سے اس کا ایک دوست آیا اور کہا کہ فلاں نے مقدمہ دائر کر دیا۔ اس نے جواب دیا کہ تم بھی ایک دعولی دائر کر دو ہم گواہوں کا انتظام خود کر لیں گے یعنی جھوٹے گواہ مہیا کر لیں گے۔ میں نے دیکھا ہے کئی آدمی بے وجہ جھوٹ بولتے ہیں ۔ اس جھوٹ بولنے سے نہ ان کی عزت کو کچھ فائدہ پہنچتا ہے نہ مال میں زیادتی ہوتی ہے۔ ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے ع صد بار اگر تو به شکستی باز آ ه ضمیمه اخبار بد ر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۸ مؤرخہ ۱۵ جولائی ۱۹۰۹ء صفحہ ۷۱ ) ے پھر جب وہ کھی کی راہ چلے تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا بنا دیا۔ ۲۔ اور جن کے دلوں میں کمزوری ہے تو ان کے گند پر گند بڑھا دیئے ۔ سے کیا وقت نہیں آیا ایمانداروں کے لئے اس بات کا کہ ان کے دل عاجزی کریں اللہ کی یاد کرتے وقت ۔ ہے اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ ۔ (ناشر) ۵ اگر تو نے سینکڑوں مرتبہ بھی عہد تو بہ توڑا ہے تو مایوس مت ہو ) دوبارہ آجا۔