حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 133
حقائق الفرقان ۱۳۳ سُورَةُ آل عِمْرَان قتل کیا جاوے تو تم پھر جاؤ گے اُلٹے پاؤں پر اور جو کوئی پھر جاوے گا اُلٹے پاؤں وہ نہ بگاڑ سکے گا اللہ کا کچھ اور نزدیک ہے کہ اللہ ثواب دے گا شکر کرنے والوں کو ۔ ( فصل الخطاب لمقدمه اہل الکتاب حصہ اول صفحه ۲۳ حاشیه ) جنگ اُحد میں نبی کریم ایک گھمسان میں تھے۔ کسی نے یہ غلط خبر اڑا دی کہ نبی کریم قتل ہو گئے ۔ اتنے بڑے عظیم الشان شخص کے قتل کی خبر عین معرکہ جنگ میں ہوش اُڑا دینے والی ہونی ہی تھی۔ بعض تو حیران رہ گئے بعض جان توڑ کر لڑے بعض نے ہمت ہار دی۔ اللہ جل شانہ ان کو فرماتا ہے آخر محمد رسول اللہ رسول ہی ہیں ۔ اگلے رسول بھی مر چکے ۔ گو یہ مسلمہ بات ہے کہ نبی گھمسان میں نہیں مارا جاتا مگر فرض کر لو کہ وہ فوت ہو گئے یا مارے گئے تو کیا وہ دین جو تم نے قبول کیا وہ چھوڑ دو گے اور پھر اس بت پرستی کی طرف لوٹ جاؤ گے؟ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۸ مؤرخہ ۱۵ جولائی ۱۹۰۹ ء صفحه ۷۰) مسیح کی وفات ۔۔۔ کوئی نیا مسئلہ نہیں ۔ جتنے رسول آئے سب ہی فوت ہوئے ۔ کسی نے اپنے ج سے پہلے نبی کی حیات کا دعولی نہیں کیا ۔ نبی کریم کی وفات پر یہ مسئلہ پیش آیا تو مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ : قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ سے ابوبکر کی مشکل آسان ہو ہو گی گئی ۔ باوجود اس صاف اور سیدھی تو تعلیم کے پھر بھی کوئی نہ مانے اور کہے کہ ہم نے جو کچھ سمجھنا تھا سمجھ لیا تو یہ لعنت کا نشان ہے ۔ ( بدر جلد ۸ نمبر ۱۴ مورخه ۲۸ جنوری ۱۹۰۹ ء صفحه ۹) ۱۴۷۔ وَ كَأَيِّنْ مِنْ نَبِي قُتَلَ مَعَهُ رِبِيُّونَ كَثِيرٌ ۚ فَمَا وَ هَنُوا لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ وَمَا ضَعُفُوا وَ مَا اسْتَكَانُوا وَاللهُ يُحِبُّ الصَّبِرِينَ - ترجمہ اور بہت سے نبی گزرے ہیں جن کے ساتھ ہو کر بہت سے امام سردار عامہ مومنین نے لڑائی کی تو وہ سست نہ ہوئے بسبب اُس مصیبت کے جو پہنچی ان کو اللہ کی راہ میں اور نہ ضعف دکھایا اور نہ ذلیل ہی ہوئے اور اللہ پسند کرتا ہے صابروں کو ۔ تفسير كائن من نبی ۔ یعنی کس قدر نبی ہیں۔ بہت ہیں ۔