حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 132
حقائق الفرقان ۱۳۲ سُورَةُ آل عِمْرَان دے۔ حضرت عائشہ کے معاملہ میں حضرت ابوبکر اپنے ایک بھائی پر ناراض ہو گئے اور اس کا وظیفہ بند کر دیا۔ خدا نے فرمایا الَّا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَكُمْ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۸ مورخہ ۱۵ جولائی ۱۹۰۹ ء صفحہ ۷۰) ١٣٦ - وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللهَ فَاسْتَغْفَرُو لِذُنُوبِهِمْ وَمَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّهُ وَ لَمْ يُصِرُّوا عَلَى مَا فَعَلُوا وَ روپوور هُمْ يَعْلَمُونَ - ترجمہ ۔ اور وہ جب بدی کر۔ ابدی کرتے ہیں یا اپنے حق میں ظلم کر بیٹھتے ہیں تو انہیں اللہ یاد آ جاتا ہے پھر وہ استغفار کرتے ہیں اپنے قصوروں کے لئے اور کون قصوروں کو معاف کرتا ہے مگر اللہ ۔ اور جنہوں نے اصرار نہیں کیا اپنے کئے پر اور وہ جانتے ہیں۔ تفسير فَاحِشَةً ۔ ایسی بدی جسے کھلم کھلا لوگ بُرا سمجھیں ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۸ مؤرخہ ۱۵ جولائی ۱۹۰۹ء صفحه ۷۰) ۱۴۰ - وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَ اَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُم مُّؤْمِنِينَ۔ ترجمہ - سست نہ ہو اور نہ ملین : واور نہ غمگین ہو تم ہی نہ ملین ہو تم ہی اعلیٰ ہو اگر تم مومن ہو۔ تفسیر وَلا تَهِنُوا نفس کے مقابلہ میں اور دشمن کے مقابلہ میں سستی اختیار نہیں کرنی چاہیے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۸ مؤرخہ ۱۵ جولائی ۱۹۰۹ء صفحہ ۷۰ ) ۱۴۵ - وَمَا مُحَمَّدُ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَابِنُ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَ اللهَ شَيْئًا وَ سَيَجْزِي اللَّهُ الشَّكِرِينَ - ترجمہ اور نہیں ہے محمد مگر ایک رسول ۔ اس کے پہلے سب رسول مر چکے، کیا اگر وہ مر جائے تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ اور جو کوئی الٹے پاؤں پھرے گا تو وہ اللہ کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے گا اور قریب ہی اللہ جزا دے گا شکر گزار بندوں کو۔ تفسیر اور محمد تو ایک رسول ہے۔ پہلے اس سے بہت رسول ہو چکے۔ پھر کیا اگر وہ مر جاوے یا لے کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہاری مغفرت فرمائے۔