حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 127
حقائق الفرقان ۱۲۷ سُورَةُ آل عِمْرَان دوسروں کی نسبت یہی کہتے ہیں ۔ ہم اسے کیا سمجھتے ہیں۔ پس جب کوئی دوسرے کی بات سنے نہیں تو حق کس طرح پا سکتا ہے۔ ان کی اس خودی اور خود پسندی کی اصل جڑ تو اُن کے بہت تھے جیسے ہندوستان میں مہاں دیو ہے۔ ایسے ہی وہاں مہبل تھا۔ جیسے یہاں دیویاں ہوتی ہیں وہاں نائلہ تھی۔ ہر بت کے پجاری لاکھوں روپے کماتے تھے۔ انہوں نے جب دیکھا کہ ایک نوجوان ہمارے ہی خاندان کا ہمارے تمام کارخانہ مکرمت پر پانی پھیرنا چاہتا ہے تو وہ آگ بگولا ہو گئے اور ادھر انہی کی قوم کے لوگ ورقہ بن نوفل، علی ، صدیق ، زید بن حارث وغیرہ مسلمان ہو گئے تو یہ اور بھی گھبرائے اور مقابلہ کی ٹھانی اور حتی الوسع انہوں نے کوشش کی کہ کسی طرح اسلام کا استیصال کیا جائے ۔ نبی کریم کو ۱۳ برس اِس گھمسان میں گذرے۔ دیکھو کس قدر بڑی ہمت کیسی بلند پروازی ، کتنا محکم ارادہ ہے اور کیسا استقلال تھا۔ پھر صحابہ میں جن کی قومیت اور عصبیت نہ تھی وہ بھاگ اٹھے۔ فرمایا جبش میں چلے جاؤ۔ وہاں وہ لوگ جا کر رہے۔ پہلے رنگ میں تو بتایا کہ شریر سے شریر حکومت کے نیچے کس طرح مسلمانوں کو رہنا چاہیے ۔ دوسری میں یہ بتایا کہ نیک دل عیسائی گورنمنٹ کے تحت میں کیونکر زندگی بسر کرنی چاہیے ۔ گویا آپ کو یقین تھا کہ ایک وقت مسلمانوں پر آنے والا ہے کہ وہ غیر قوموں پر حاکم ہوں گے اور پھر ایک وقت وہ بھی آتا ہے کہ وہ محکوم ہوں گے۔ یہ تو مکہ کے حالات تھے۔ اب جب آپ مدینہ میں آئے تو یہاں کے رسم و رواج سے آپ کو آگاہی نہ تھی ۔ ان کی جماعتوں میں کوئی منصوبہ کرتا تو کوئی خبر تک دینے والا نہ تھا۔ ضمیمه اخبار بد ر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۶، ۳۷ مورخہ یکم و ۸ ر جولائی ۱۹۰۹ ء صفحہ ۶۸) منافقوں کے علاوہ ایک طرف یہود تھے۔ بنو قینقاع، بنو نضیر، بنو قریظہ ۔ دوسری طرف پادری جن کا لارڈ بشپ ابو عامر ہر قل سے تعلقات رکھتا تھا۔ اس طرح پر اس سلطنت کا خدشہ تھا۔ پھر مدینہ کے مشرک اوس و خزرج تھے۔ پھر یہاں تک ہی بس نہ تھی بلکہ مکہ والے تجارت کے بہانے سے اِدھر اُدھر را گھومتے اور ریشہ دوانیاں کرتے پھرتے تھے اور قوموں کو اُکساتے پھرتے ۔ پھر ایران کے بادشاہوں سے ان کی ساز باز تھی ۔ ان کو حضرت نبی کریم کی جماعت پر برانگیختہ کرتے رہتے۔ چونکہ دشمنوں کا