حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 125
حقائق الفرقان ۱۲۵ سُورَةُ آل عِمْرَان بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا (المائدة: ٣٣) الحکم جلد ۵ نمبر ۳۳ مورخه ۱۰ ستمبر ۱۹۰۱ صفحه ۱۱) ۱۱۴ تا ۱۱۶ - لَيْسُوا سَوَاءً مِنْ أَهْلِ الْكِتٰبِ أُمَّةٌ قَائِمَةٌ يَتْلُونَ أَيْتِ اللَّهِ أَنَاءَ الَّيْلِ وَهُمْ يَسْجُدُونَ - يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَ يَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُسَارِعُونَ فِي الْخَيْاتِ وَ أُولَئِكَ مِنَ الصَّلِحِينَ وَمَا يَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ يُكْفَرُوهُ وَاللهُ عَلِيمٌ۔ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَ - وہ سب یہود برابر ترجمہ برابر نہیں ہیں اہل کتاب میں سے ایک جماعت ت معلم خیر بھی ہے سیدھی سادھی پڑھتی رہتی ہے آیات اللہ رات کے حصوں میں اور وہ فرمانبرداری کرتے ہیں۔ ایمان لاتے ہیں ساتھ اللہ کے اور یوم آخر خر کے اور نیک کاموں کا حکم کرتے ہیں اور برے کاموں سے روکتے ہیں اور جلدی کرتے ہیں نیک کاموں میں یہی لوگ سنوار والوں میں سے ہیں۔ اگر وہ کچھ بھی نیکی سے کریں تو اس کی ناقدری ہرگز نہ کی جائے گی اور اللہ خوب جانتا ہے متقیوں کو۔ تفسير مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ أُمَّةٌ قَائِمَةٌ ۔ ہر مذہب میں دو قسم دو قسم کے لوگ ہیں ۔ ایک وہ جو شریر ہوتے ہیں۔ وہ غیر مذہب کی مخالفت محض از راہ شرارت کرتے ہیں ان میں طلب حق ہر گز نہیں ہوتی ۔ دوسرے وہ جو شرارتوں میں شریک نہیں ہوتے ۔ وہ نیکی میں بقد ر ا پنی طاقت کے بڑھتے رہتے ہیں۔ اللہ پر، قیامت پر ایمان لاتے ہیں۔ اپنی عقل و فہم کے مطابق پسندیدہ کام کرتے اور برے کاموں سے رکے رہتے ہیں اور کسی نبی وغیرہ کی ہتک نہیں کرتے ۔ اس قسم کے لوگوں کو خدا نے امید وار ٹھہرایا ہے کہ مَا يَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ يُكْفَرُوهُ جو کچھ بھی وہ بھلائی کریں اس کی ناقدری نہ ہوگی ۔ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالمُتَّقِينَ ۔ کیونکہ اللہ کو متقین کا علم ہے پس ان کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے ہمیں رائے زنی کا کوئی حق نہیں ( ان نیکیوں کی قدردانی بھی یہ ہے کہ اسلام قبول کرنے کے لئے شرح صدر ہو جاوے) باقی رہے جو کھلم کھلا انکار کرتے اور شرارت و ایذارسانی سے پیش آتے ہیں وہ تو کچھ خرچ بھی کریں تو اکارت جاتا ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۶، ۳۷ مورخہ یکم و ۸ جولائی ۱۹۰۹ صفحه ۶۸) ے اس واقعہ کے سبب سے ہم نے بنی اسرائیل کو حکم دیا تھا کہ جو کسی کو مار ڈالے بغیر بدلے یا بغیر ملک میں شرارت کرنے کے تو گویا اس نے تمام آدمیوں کو مارڈالا۔