حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 120
حقائق الفرقان ۱۲۰ سُورَةُ آل عِمْرَان غرض تفرقہ پیدا ہوتا ہے ایک دوسرے کی بات نہ سننے سے جس کی تم لوگوں کو عادت ڈالنی چاہیے۔ میرے سامنے یہ سوال پیش کیا گیا ہے کہ مسلمان کیوں ترقی نہیں کرتے؟ یہ مسلمان کب بنیں گے؟ میں نے اس سوال پر بہت غور کیا ہے۔ دوسری قوموں کے پاس تو تعلیم کوئی تھی نہیں مگر ضرورت محسوس کر کے انہوں نے وحدت قائم کر لی اور اس کا پھل کھایا۔ ہندو ہیں بس ان میں دولت رام نام چاہیے۔ پھر وہ کہہ دیں گے کہ یہ ہماری قوم کا ہے۔ پھر نع به ہماری قوم کا ہے۔ پھر نصاری ہیں انہوں نے قومی وحدت کا مسئلہ اختیار کر لیا ہے۔ دوسرا اصل ان قوموں نے یہ سمجھ لیا کہ محنت کے بغیر کچھ نہیں ہوتا پس انہوں نے محنت اختیار کر لی ۔ مسلمان ہیں ان کو خود مذہب نے سکھایا کہ تم وحدت پیدا کرو اور محنت کرو مگر انہوں نے اس کی کچھ پرواہ نہ کی ۔ دوسری قوموں کا یہ حال ہے کہ انہوں نے عبادت کو تو ایک خاص شخص کے گلے پر منڈ دیا ہے۔ چنانچہ میں جن راجوں کے ہاں ہوتا تھا ان میں ایک مدبر کو دیکھتا کہ وہ بڑی محنت سے کام کرتا۔ جب نوکر آکر عرض کرتا کہ مہا راج پوجا کرتا کہ مہاراج پوجا کا وقت ہے تو وہ کہہ دیتا کسی برہمن کو چند پیسے دے کر پوجا کرالو۔ اسی طرح عیسائی ہیں انہوں نے الا بلاء یسوع کے سر پر ڈال دی جو ان کے لئے کفارہ ہو گیا۔ اب دنیارہ گئی سواس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئے اور اس میں کامیاب ہوئے ۔ مسلمانوں نے نہ تو دین کو سنبھالا نہ دنیا کو۔ دین کا حال تو یہ ہے کہ سرحدی مولوی ہیں انہوں نے فتوای دے دیا کہ انگریزی علاقہ سے کوئی دس بھیڑیں لائے ایک ہمیں دے دے باقی حلال ۔ اور دنیا کا یہ کہ بس ساری دنیا میں سکتے ہیں تو مسلمان ۔ ترقی کریں تو کیونکر کریں۔ وحدت پیدا کرو تا کامیاب بنو۔ ایک دن آتا ہے کہ کچھ لوگ بے عیب تجویز کئے جاویں گے وہ مسلمان ہوں گے۔ وہ خدا کی رحمت میں ہوں گے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۶، ۳۷ مورخہ یکم و ۸ ر جولائی ۱۹۰۹ء صفحہ ۶۷)