حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 118
حقائق الفرقان ۱۱۸ سُورَةُ آل عِمْرَان اگر چاہتا ہے تو اس کے لئے لازمی شرط یہی ہے کہ متقی ہو اور پھر صبر کرے مگر تم دیکھو کہ تم میں ادنی ادنیٰ باتوں میں تنازعہ ہو جاتا ہے۔ یہاں ہمارا بازار ہے کتنی دوکانیں ہیں ان میں کتنا سودا ہے میں تو جانتا ہوں اس کا نام بازار رکھنا بھی شرم ہے۔ بہر حال جو کچھ بھی ہے، ہے۔ ان گنتی کے دوکانداروں میں ہر ایک یہی سمجھتا ہے کہ جو سودا اس نے رکھا ہے کوئی دوسرا نہ رکھے اور اسے ہی سارا نفع ہو۔ پھر جگہ پر جھگڑا ہوتا ہے ایک کہتا ہے مجھے یہ جگہ ملے دوسرا کہتا ہے مجھے دو یہ۔ میں حیران ہو جاتا ہوں کہ یہ کیا کرتے ہیں کیا ان کی غرض اتنی ہی ہے ۔ وہ مجھ سے پوچھتے تو میں انہیں بتا تا کہ اگر تم نفع چاہتے ہو تو خدا پر ۔ وہ تو بتاتا تو خدا بھروسہ کرو کسی دوکان یا کسی سودے کو اپنا خدا مت بناؤ۔ ان پر بھروسہ کرو گے تو ہلاک ہو جاؤ گے۔ نہ دنیا کا فائدہ ہوگا اور دین بھی ہاتھ سے جائے گا ۔ نفع دینا اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے اور یہ اس کے فضل سے ملتا ہے۔ ہاں تدبیر کرو مگر اپنی تدبیروں کو خدا نہ سمجھ لو اور ان پر بھروسہ نہ کرو تمہاری تجارتیں تمہارے لئے موجب برکت دین ہوں ۔ وہ دنیا کسی کام کی نہیں جو دین کو بگاڑ دے۔ کیا دنیا میں پہلے سے ایسے تاجر موجود نہیں جن کو دین سے واسطہ نہیں ۔ تم کوشش کرو اور خدا تعالیٰ سے توفیق چاہو کہ تمہاری تجارتیں بھی تمہارے لئے دین ہو جائیں ۔ الحکم جلد ۱۶ نمبر ۳ مورخه ۲۱ جنوری ۱۹۱۲ء صفحه (۳) ۱۰۵ - وَلْتَكُن مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَ يَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ - ترجمہ۔ اور چاہئے کہ ہو تم میں سے ایک جماعت نیکی سکھانے والی جولوگوں کو بہتری کی طرف بلائے اور ان کو اچھے کاموں کا حکم دے اور برے کاموں سے روکے اور یہی لوگ مظفر و منصور ہوں گے۔ تفسیر - امه - گروه أولئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ۔ امر بالمعروف، نہی عن المنکر کو میں نے تو آزما لیا۔ اس سے انسان مظفّر ومنصور ہو جاتا ہے۔ ایک مظفر و منصور ہونا تو تم نے دیکھ لیا کہ میں بھی تمہیں سے ایک تھا اور تمہارا پیر بن گیا۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۶، ۳۷ مورخہ یکم و ۸ جولائی ۱۹۰۹ صفحہ ۶۷ )