حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 116
حقائق الفرقان ١١۶ سُورَةُ آل عِمْرَان ہے کہ وہ ایک وحدت کی روح اپنے ساتھ لے کر آتا ہے۔ اس وقت بھی ہزاروں ہزار مولوی ، سجادہ نشین ، صوفی، مشائخ موجود ہیں اور بیشمار کتا بیں بھری پڑی ہیں مگر دیکھو کہ کیا ان سب میں باہم اتحاد اور یگانگت ہے۔ ایک دوسرے پر کفر کے فتوے دیئے جا رہے ہیں اگر ایک شہر کے علما کو بھی دیکھو تو معلوم ہوگا کہ ان میں باہم اتحاد نہیں ہے پھر دین کو دنیا پر مقدم کرنے کی ہدایت کو وہ کیونکر پھیلا سکتے ہیں حقیقت میں وہ اس بات سے نا آشنا محض ہیں کہ باہم محبت کس طرح بڑھتی ہے۔ غرض جب انسان کسی صادق کی تلاش کرتا اور اپنی اندرونی بیماریوں کو محسوس کر لیتا ہے تو اس کو خود بخود پتا لگ جاتا ہے کہ جس کو میں نے صادق سمجھا ہے اس کے ساتھ تعلق پیدا کرنے سے مجھے ان بیماریوں کے متعلق کیا سکھ پہنچا ہے۔ جیسے ایک سردی سے ٹھٹھرا ہوا انسان جب روئی سنجاب یا سمور کے کپڑے پہن لیتا ہے تو اس کو واضح طور پر معلوم ہونے لگتا ہے کہ اس کو آرام پہنچتا ہے۔ اسی طرح پر روحانی بیماریوں کا مریض جب اپنے مسیح کے پاس جاتا ہے اور اس سے تعلق پیدا کرتا ہے تو محسوس کرتا ہے کہ مجھ سے فلاں گلی سڑی چیز اس کی اطاعت اور فرمانبرداری میں نکل رہی ہے اور یہ فائدہ پہنچ رہا ہے ۔ پس پہلی بات جو صادق کی شناخت کے لئے اور اس برخورداری کے لئے ضروری ہے وہ ایک قسم کی وحدت اور یکتائی ہے تا کہ خدا کا فضل جو وحدت پر نازل ہوتا ہے اس سے متمتع ہو جاؤ۔ اس وقت بھی ایک صادق اللہ تعالی کی طرف سے آیا ہے اور تم نے اسے پہچانا ہے مگر تم اپنے اندر مشاہدہ کرو کہ اس کی اطاعت اور فرمانبرداری میں کیا سکھ پارہے ہو اور کون سی بیماریاں تمہاری دور ہو رہی ہیں ۔ باہم مودت پیدا کرو کیونکہ فضل الہی کے جذب اور کشش کے لئے پہلا اصول وحدت ہے اور سوچو کہ پہلے کن لوگوں کے ساتھ تعلق اور صحبت تھی اس کے ہاتھ پر تو بہ کرنے کے بعد کیا تبدیلی ہوئی ۔ ایک معاہدہ ہم سے لیا جاتا ہے اور جس وقت وہ معاہدہ لیا جاتا ہے میری طبیعت گھبرا جاتی ہے ایک انسان جس کو میں پورے شعور اور کامل بصیرت کے ساتھ یقین کرتا ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے یہ وعدہ لیتا ہے کہ میں رنج میں ، راحت میں عسر میں، لیسر میں قدم آگے بڑھاؤں گا اور