حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 115
حقائق الفرقان ۱۱۵ سُورَةُ آل عِمْرَان بد عادتیں نہ پڑنے دیں۔ اگر ہوں تو دور کرنے کی سعی کریں۔ محلہ میں شہر میں جو بد عادات اور رسومات رواج پذیر ہوں ان کو دور کرنے کی کوشش کریں اور ان سب کے لئے عمدہ عمدہ تدابیر سوچتے رہیں ۔ ہر مومن اپنے نفس سے سوال کرے کہ اس نے کسی بدی کا اپنے نفس یا اپنے گھر میں یا اپنے محلہ یا اپنے شہر یا اپنے ملک سے قلع قمع کیا ہے؟ بدیاں انسان زیادہ تر حصول رزق کے لئے کرتا ہے۔ فرمایا بسط رزق تو اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ ( بدر جلد ۱۰ نمبر ۳۴ مورخه ۲۲ جون ۱۹۱۱ء صفحه (۳) سب کے سب حبل اللہ کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ نہ کرو۔ مدرسوں میں رسہ کشی کا ایک کھیل ہوتا ہے اور تم نے دیکھا ہو گا اس میں دو پارٹیاں ہوتی ہیں ایک ایک طرف اور دوسری دوسری طرف جس طرف کے لڑکے وحدت کے ساتھ مل کر زور نہ لگائیں وہ جیت نہیں سکتے ۔ یہ لڑکوں کی فطرت میں ایک ۔ امر رکھ دیا ہے۔ مسلمانوں کو بھی ایک حبل اللہ دیا گیا ہے ان کا فرض ہے کہ وہ سب کے سب مل کر زور لگا دیں ۔۔۔ یا درکھو کہ اگر پوری طاقت و ہمت اور یک جہتی سے اس حبل اللہ کو مضبوط نہ پکڑو گے تو مخالفین اس رسہ کو لے جائیں گے (خدا نہ کرے ایسا ہو ) اس رسہ کو مضبوط پکڑنے سے یہ مطلب ہے کہ قرآن مجید تمہا را دستور العمل ہو۔ تمہاری زندگی اس کی ہدایتوں کے ماتحت ہو۔ تمہارے ہر ایک کام ہر حرکت و سکون میں جو چیز تم پر حکمران ہو وہ خدا تعالیٰ کی یہ پاک کتاب ہو جونور اور شفا ہے۔ ( بدر جلد ۱۲ نمبر ۱ مورخہ ۴ جولائی ۱۹۱۲ ء صفحہ ۶۰۵ ) کس قدر حیرت انگیز تبدیلی اور تعجب میں ڈال دینے والی بات ہے ان سالہا سال بلکہ صدیوں کی خانہ جنگیوں کو دور کر دینے والی صرف ایک ہی بات تھی یا کچھ اور ۔ اور وہ یہ تھی کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر آئے تو بہ کرتے ۔ وہ تو بہ کچھ ایسی تھی اور اس ہاتھ میں کچھ ایسی شفار رکھی گئی تھی کہ جو آتا اس کی تمام اندرونی بیماریاں صاف ہو جاتی تھیں اور بجائے اس کے پاکیزہ خیالات اور سکھ دینے والی باتیں آبستی تھیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس قدسی قوت نے بڑے بڑے سوچنے والے لوگوں کو حیرت میں ڈال رکھا ہے۔ غرض یہ ایک بڑی بھاری شناخت صادق کی