حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 114
حقائق الفرقان االه سُورَةُ آل عِمْرَان پھر اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ - الآيه ۔ اس انعام الہی کو یاد کرو جو تم پر ہوا ہے۔ تم باہم دشمن تھے تمہارے دلوں میں ایسی الفت ڈالی کہ تم باہم بھائی بھائی ہو گئے۔ رات کو دشمن سوئے تھے صبح کو اخوان بن کر اُٹھے کیسا فضل ہے۔ یادرکھو جب کوئی مامور من اللہ آتا ہے اُس وقت ایک نئی برادری پیدا ہوتی ہے، نئی اولاد پیدا ہوتی ہے اور نئے تعلقات پیدا ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس برداری کا نام اخوان رکھتا ہے۔ سارے عرب میں قریش ایک معزز اور سر بر آوردہ قوم تھی اور قریش میں بنو ہاشم کا خاندان اور بنو ہاشم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گھرانہ ممتاز اور معزز تھا۔ پھر دنیا میں حقارت سے دیکھی ہوئی قوم غلاموں کی ہے مگر دیکھو کہ اسلامی اخوت نے کیا کرشمہ دکھایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی زاد بہن زینب کا نکاح زید بن حارث سے کر دیا گیا تا کہ دنیا کو بتا یا جاوے کہ اخوت اس کا نام ہے جو اسلام نے قائم کی ہے۔ بلال کا رشتہ قریش میں کرا دیا گیا۔ حسان کا رشتہ ماریہ کی بہن سے کرادیا۔ غرض یہ ایک نمونہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھایا جو اللہ تعالیٰ کے انعام میں سے تھا۔ یہ سچی بات ہے کہ جب تک اخوت کا رنگ پیدا نہ ہو سپر بنانے کے ایک حصہ سے محروم رہتا ہے۔ پس یا درکھو جماعت پر اللہ تعالیٰ کا فضل اسی وقت ہوتا ہے جب اخوت کا مرتبہ پیدا کریں۔ وہ اپنے چھوٹوں کی جو غرباء ہیں خبر گیری کریں اور کسی کو حقیر نہ سمجھیں۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۴ مؤرخہ ۳۱ جنوری ۱۹۰۱ ءصفحہ ۷ ) یہ بھی مانتے ہیں کہ فعل بدوں فاعل کے نہیں ہوتا۔ غرض اس قسم کے بہت سے علوم فطرتاً دیئے جاتے ہیں۔ پس تم اگر ان فطرتی علوم سے کام لو تو اللہ تعالیٰ پھر نفس مطہر دے کر خود قرآن مجید سکھا دیتا ہے۔ غرض تم اللہ تعالیٰ کے اس فضل کو یاد کرو کہ تم باہم اعداء تھے اس نے تمہیں بھائی بنادیا اس اخوت کی قدر کرو اور سچے دل سے قدر کرو۔ الحکم جلد ۱۶ نمبر ۳ مورخه ۲۱ جنوری ۱۹۱۲ ء صفحہ ۷ ) عورتوں کے بارے میں مردوں کو فرمایا۔ قومونَ عَلَى النِّسَاءِ ( النساء: ۳۵) پس مردوں کا فرض ہے کہ ان کی تادیب و اصلاح کریں نیک معاشرت رکھیں رفق و مدارات سے پیش آئیں۔ بچوں میں ا مردم ستم اور حاکم ہیں عورتوں پر۔ (ناشر)