حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 113 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 113

حقائق الفرقان ۱۱۳ سُورَةُ آل عِمْرَان پس شخصی وحدت تو یہ تھی کہ ہر ایک انسان کا دل و زبان اور اس کے تمام اعضاء میں باہم وحدت ہو۔ ایسا نہ ہو کہ دل میں کچھ ہے اور زبان پر کچھ اور آنکھ کچھ اشارہ کرتی ہے اور اعضاء کچھ اور کہتے ہیں اور قومی وحدت یہ تھی کہ باہم ایسے تنازع نہ ہوتے ۔ امانت جسے رعایا کہتے ہیں کو عام تکلیف نہ پہنچتی بلکہ اس امانت الہیہ کو ہر طرح آرام و راحت ملتی اور خود غرضی اور لالچ دینا جو رَأْسُ كُلِّ خَطِيئَةٍ ہے پھوٹ کا موجب نہ ہوتا۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام ۔ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۷۸) وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا ۔ سب کے سب مل کر حبل اللہ کو پکڑ لو۔ مجھے نہایت رنج اور قلق سے کہنا پڑتا ہے کہ اس حکم پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔ حبل اللہ یعنی قرآن کریم کو مضبوط پکڑنا چاہیے تھا مگر اس کی پرواہ نہیں کی جاتی۔ تمہاری کوئی حرکت اور سکون ، کوئی رسم اور پابندی اس رسن سے الگ نہ ہو ۔ اللہ تعالیٰ کو سپر بنانے کے واسطے اس کی رضا مندی کی راہوں کو معلوم کرنا از بس ضروری تھا اور وہ بیان ہوئی ہیں قرآن کریم میں ۔ اس لئے اس کو مضبوط پکڑنے کا ارشاد ہوا ۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۴ مورخه ۳۱ جنوری ۱۹۰۱ء صفحه ۶) ہر مدرسہ میں ایک رسہ ہوتا ہے۔ کچھ لڑ کے ایک طرف سے پکڑتے ہیں اور کچھ دوسری طرف سے اور آپس میں کھیلتے ہیں۔ کبھی وہ فتح پالیتے ہیں اور کبھی وہ۔ اور کبھی رستہ بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ مگر اللہ کریم فرماتا ہے ہم نے بھی ایک رستہ بھیجا ہے مگر سب مل کر ایک ہی طرف کھینچو۔ تفرقہ، رنج ، بغض اور عداوت کو بالکل چھوڑ دو ۔ ایسی کوئی بات تم میں نہ پائی جاتی ہو جس سے تفرقہ پیدا ہو ۔ دیکھو تم طالب علموں میں سے کسی کا باپ اعلیٰ عہدہ پر ہے۔ کوئی خوبصورت ہے۔ کسی کے پاس مال و دولت ن ہے کوئی عقلمندی کا دعوی کرنے والا ہے۔ کوئی طاقت والا ہے مگر ان پر نازمت کرو اور بھول میں مت پڑو۔ یاد رکھو اللہ ایک دن میں تباہ کر دیا کرتا ہے۔ بڑے بڑے امیروں اور دولتمندوں کے بچوں کو میں نے بھیک مانگتے اور بھیک مانگ کر مرتے دیکھا ہے اور بعضوں کو میں نے اپنے والدین کو گالی نکالتے دیکھا ہے کہ انہوں نے یہ پختہ حویلیاں اور درودیوار ایسے بنائے ہیں اور ایسے محل بنا کر مر گئے ہیں کہ ہم آسانی سے بیچ بھی نہیں سکتے ۔ (الحکم جلدا انمبر ۳۱ مؤرخہ ۳۱ اگست ۱۹۰۷ صفحه ۱۲) لے ہر برائی کی جڑ۔